ملفوظات (جلد 3) — Page 374
ور لیط بمعنے شیطان۔یعنی شیطان کو الگ کر دینے والا دوسری یہ بات ہے کہ آنحضرتؐکا نام فارقلیط بھی ہے کیونکہ وہ صاحب فرقان ہے اور فرقان کے معنے فرق کرنے والے کے ہیں اور اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ میں لفظ شیطان ہے جو لیط کا معنے ہے اس طرح آپ کا نام فارقلیط بھی ہو گیا اور احـمد کے معنے بہت تعریف کرنے والے کے ہیں تو اس سے بڑھ کر اور کون ہو گا جو توحید کے ذریعہ سے ہر ایک قسم کی شیطنت کو دور کرے۔فارقلیط بننے کے واسطے احمد ہونا ضروری ہے احمد وہ ہے جو دنیا میں سے شیطان کا حصہ نکال کر خدا تعالیٰ کی عظمت اور جلال کو قائم کرنے والا ہو فارقلیط کامنشا دوسرے الفاظ میں احمد ہے۔کرشن اور رام چندر کی پرستش اس کے بعد ایک ہندو صاحب تشریف لائے جو کہ علاقہ مدراس کے ایک مقام رائے ڈروگ ضلع بلہاری سے آئے تھے۔۔۔۔۔حضرت اقدس نے دریافت فرمایا کہ آپ کے شہر میں کرشن اور رامچندر اور پتھر کے بتوں وغیرہ کی بھی پرستش ہوتی ہے؟ لالہ صاحب نے جواب دیا کہ ہاں لوگ کرتے ہیں، میں نہیں کرتا۔مدراس سے ہندو کا آنا بھی نشان ہے حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہ اب ان کا اس قدر دور دراز مقام سے آنا بھی یَأْتِیْکَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ کامصداق ہے اگر ایسے نشانوں کو ہم جمع کریں تو دس ہزار سے بھی زیادہ نکلتے ہیں اور گواہ بھی محمد حسین کافی ہے۔آتھم کا رجوع فرمایا کہ یہ بات بھی یاد رکھو کہ میں نے اسی وقت مباحثہ میں سنادیا تھا کہ اس مباحثہ اور پیشگوئی کی بنیاد یہ ہے کہ آتھم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام دجّال رکھا تو اسی وقت آتھم نے توبہ توبہ کر کے کانوں پر ہاتھ رکھے اور کہا ’’مرزا صاحب مجھے ناحق مارتے ہیں میں نے تو دجّال نہیں کہا‘‘ (مولوی عبد الکریم صاحب نے کہا مجھے یہ الفاظ خوب یاد ہیں) کیا یہ اس کا یہ عمل رجوع تھا یا نہیں؟