ملفوظات (جلد 3) — Page 371
کی طرف سے یہ خیالات ذہن نشین ہیں کہ نعوذباللہ جناب نے روزے اپنے خدام کو معاف کر دئیے ہیں اور نبی کریمؐکی ہتک کی ہے اور کہا ہے کہ وہ ایک جھوٹا نبی تھا میں اس سے افضل ہوں یہ اشتہاراس وضع اور عنوان سے لکھے ہوئے ہیں کہ عوام النّاس کو دھوکا لگتا ہے اوریہی خیال کیا جاتا ہے کہ آپ کامضمون اور آپ کی تحریر ہے۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ کشتی نوح وہاں کثرت سے تقسیم کر دی جاوے یہی کافی ہے۔خواجہ صاحب نے کہا کہ ایک ذی وجاہت شخص کو میں نے دیکھا ہے کہ اس نے اسے پڑھ کر کہا کہ کتاب تو عمدہ ہے اگر آخر میں مکان کے چندہ کا ذکر نہ ہوتا۔میں نے اسے جواب دیا کہ کیا تم سے بھی ایک پیسہ مرزا صاحب نے مانگا ہے یا تم نے دیا ہے؟ مرزا صاحب نے تو ان لوگوں کو مخاطب کیا ہے جو ان سے تعلق ابنیت کا رکھتے ہیں۔کیا اگر ایک باپ اپنے بیٹوں سے دو ہزار اس لئے طلب کرے کہ اسے ایک مکان بنانا ہے تو کیا یہ فعل اس کا قابل اعتراض ہو گا؟ اس پر وہ خاموش ہو گیا۔مخالفین کے اشتہارات ترقی میں مانع نہیں حضرت اقدس نے فرمایا کہ یہ سب باتیں توہیں لیکن اندر ہی اندر ترقی ہو رہی ہے خدا کا فضل ہے اسی طرح کے اشتہارات جو مخالفین کی طرف سے شائع ہوتے ہیں یہ خدا کی کارروائی میں مضر معلوم نہیں ہوتے کیونکہ جب تک تپش نہ ہو بارش نہیں ہوتی۔ہم سب پر بدظنی نہیں کرتے انہیں میں سے لوگ نکلنے شروع ہو جاتے ہیں کئی خط اس طرح کے آتے ہیں کہ ہم اوّل مخالف تھے گالیاں دیتے تھے مگر اب ایک راہ چلتے سے ایک اشتہار دیکھ کر بیعت کرتے ہیں اس سے پیشتر بھی یہ کارروائیاں چپ چاپ نہیں ہوئیں۔مکہ میں کیا ہوتا رہا خدا تعالیٰ تماشا دیکھتا ہے کیا کفار امن سے رہتے تھے وہ بھی ہمیشہ ہر وقت لڑائیوں اور فسادوں میں رہتے تھے ابو جہل ہی کو دیکھو کہ بدر کی جنگ میں مباہلہ بھی کر لیا اَللّٰھُمَّ مَنْ کَانَ مِنَّا اَقْطَعَ لِلرَّحْـمِ وَاَفْسَدَ فِی الْاَرْضِ فَاَحِنْہُ الْیَوْمَ یعنی ہم دونوں میں سے جو زیادہ قطع رحم کرتا ہے اور زمین میں فساد ڈالتا ہے اس کو آج ہی ہلاک کر پھر اسی دن وہ قتل ہو گیا اس کو تو یہی خیال ہوگا کہ اس (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) نے فساد برپا کر دیا ہے