ملفوظات (جلد 3) — Page 350
س سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کامیلان دنیا کی طرف نہ تھا ورنہ دوسری دنیا دار قوموں کی طرح لاکھوں کروڑوں تک گنتی وہ بھی رکھتے۔پھر وہ رسالہ سن کر حضرت اقدس نے تعریف کی کہ عمدہ لکھا ہے اور معقول جواب دئیے ہیں۔۱ ۵؍نومبر ۱۹۰۲ء بروز چہار شنبہ(بوقتِ سیر) خاتمہ بالخیر چاہیے حضرت اقدس حسبِ معمول سیر کے لئے تشریف لائے۔آتے ہی قاضی امیر حسین صاحب مدرّس عربی مدرسہ تعلیم الاسلام قادیان کے والد ماجد مسمّٰی غلام شاہ صاحب تاجر اسپاں سے ملاقات ہوئی انہوں نے حضرت اقدس کے دستِ مبارک کو بوسہ دیا اور نذر گذرائی۔حضرت اقدس ان کے حالات دریافت فرماتے رہے معلوم ہوا کہ اَسّی سال سے زیادہ عمر آپ کی ہے انہوں نے درخواست کی کہ میرے خاتمہ بالخیر کی دعا فرمائی جاوے۔حضرت اقدس نے فرمایا۔بس یہی بڑی بات ہے کہ خاتمہ بالخیر ہو۔کسی نے نوحؑ سے دریافت کیا تھا کہ آپ تو قریب ایک ہزار سال کے دنیا میں رہ کے آئے ہیں بتلائیے کیا کچھ دیکھا۔نوحؑ نے جواب دیا کہ یہ حال معلوم ہوا ہے جیسے ایک دروازہ سے آئے اور دوسرے سے چلے گئے۔تو عمر کا کیا ہے لمبی ہوئی تو کیا تھوڑی ہوئی تو کیا خاتمہ بالخیر چاہیے۔پھر ایک بڑکے درخت کی طرف اشارہ کر کے حضرت اقدس نے فرمایا کہ ہم سے تو یہ درخت ہی اچھا ہے ہم چھوٹے ہوتے تھے تو اس کے تلے ہم کھیلا کرتے تھے یہ اسی طرح ہے اور ہم بڈھے ہو گئے ہیں یہ سال بہ سال پھل بھی دیتا ہے۔پھر فرمایا کہ پرسوں میں نے انشاء اللہ (ایک شہادت کے واسطے ) بٹالہ جانا ہے اس میںکوئی حکمتِ الٰہی ہوگی اس لئے کل سیر موقوف رہے گی۔مہندی لگاؤں گا۔فرض منصبی میں التوا ہوگیا ہے مگر خدا کی حکمت ہی ہوگی وہ جرح نہ ڈالے گا۔مولوی محمد علی صاحب کو ہمراہ لے جاؤں گا۔