ملفوظات (جلد 3) — Page 351
مباحثہ مُدّ کسی فتح کی بنیاد نظر آتا ہے محمد یوسف صاحب اپیل نویس نے بیان کیا کہ حضور موضع مُد کے مباحثہ میں ایک اعتراض یہ بھی کیا گیا تھا کہ مرزا صاحب تمہاری آنکھ کیوں نہیں اچھی کر دیتے حضرت اقدس نے فرمایا۔جواب دینا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک اندھا تھا جیسے لکھا ہے عَبَسَ وَتَوَلّٰۤى اَنْ جَآءَهُ الْاَعْمٰى ( عبس : ۲،۳ ) وہ کیوں نہ اچھا ہوا حالانکہ آپ تو افضل الرّسل تھے اَور بھی اندھے تھے ایک دفعہ سب نے کہا کہ یا حضرت ہمیں جماعت میں شامل ہونے کی بہت تکلیف ہوتی ہے آپ نے حکم دیا کہ جہاں تک اذان کی آواز پہنچتی ہے وہاں تک کے لوگوں کو ضرور آنا چاہیے۔مباحثہ کے ذکر پر فرمایا کہ شریر آدمیوں کا کام ہے کہ آنکھ، کان، ناک اور ٹانگ وغیرہ کاٹ کر پھر کلام کو ایک مسخ شدہ صورت میں پیش کرتے ہیں یہ مباحثہ بھی ہمارے لئے ایک فتح حدیبیہ کی صلح کی طرح کسی فتح کی بنیاد ہی نظر آتا ہے۔جماعت کا اخلاص پھر فرمایا کہ ہماری جماعت جان و مال سے قربان ہے اگر ہمیں ایک لاکھ کی ضرورت ہو تو وہ مہیّا کر سکتے ہیں اوّل بار عوام النّاس نے علمی باتوں کو نہ سمجھا اس لئے اب اﷲ تعالیٰ نشانوں سے سمجھاتا ہے۔پھر شیعوں کے ذکر اذکار ہوتے رہے کہ ان لوگوں میں یہ بھی عقیدہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی شکل علی کی شکل ہے معراج میں بھی خدا تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نظر آیا تو علی کی شکل پر آیا۔مولویوں کی حالت زمانہ کے مولویوں کی حالت پر فرمایا کہ ایسے مولویوں کے ہوتے ہوئے دین کے استیصال کے لئے پادریوں کی بھی ضرورت نہیں ہے۔نبی سے اجتہاد میں غلطی ہو سکتی ہے پھر اعتراضوں پر فرمایاکہ کیا وجہ ہے کہ یہ لوگ ہم پر وہ ٹیکس لگاتے ہیں جو