ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 347 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 347

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۴۷ جلد سوم جب جانتا ہے ہے کہ محاصرہ میں آگیا تو وہ گالی اور درشت زبانی سے پیچھا چھڑانا چاہتا ہے طالب حق بن کر ہر ایک بات کرنی چاہیے اور یہ امریچ ہے ہمارے حق پر ہونے کی یہ علامت ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَأَغْلِبَنَ أَنَا وَ رُسُلِی (المجادلة : ۲۲) اگر ہم حق پر نہیں ہیں تو ہم غالب نہ ہوں گے ہم نے ان کو کئی بار لکھا ہے کہ سب متفق ہو جاویں کوئی عیب نہیں ہے ۔ ہماری طرف سے ان کو اجازت ہے ان تمام مولویوں میں سے بہت ایسے ہیں کہ عربی لکھتے ہیں بلکہ اشعار بھی کہتے ہیں مگر ہمارے مقابل پر خدائے تعالیٰ ان کی زبان بند کر دیتا ہے اور ان کو ایسا امر پیش آتا ہے کہ چپ رہ جاتے ہیں۔ پھر مکان قریب آگیا اور حضرت اقدس السلام علیکم کہہ کر تشریف لے گئے ۔ بوقت ظهر ) پھر انہیں امور کا ذکر ہوتا رہا جو کہ سیر میں بیان ہوئے اور فرمایا کہ خدا کے فضل کی ضرورت ہے سر میں درد ہے۔ ریزش بھی ہے ایسا نہ ہو کہ زیادہ ہو جاوے پھر فرمایا کہ نماز پڑھ لی جاوے اور نماز پڑھ کر تشریف لے گئے ۔ ( بوقت عصر ) اس وقت مولوی محمد علی صاحب نے حضرت اقدس کو ایک انگریزی مضمون سنایا۔ مغرب کی نماز کے بعد حضرت اقدس حسب دستور شہ نشین پر جلوہ گر ہوئے سید عبداللہ عرب صاحب نے ایک رسالہ ایک شیعہ علی حائری کے رد میں زبان عربی میں لکھا تھا اس کا نام سبیل الرشاد رکھا تھا وہ حضرت اقدس کو سناتے رہے حضرت اقدس نے فرمایا کہ ساتھ ساتھ اردو تر جمہ بھی کرتے جاؤ کہ تم کو مشق ہو۔ مگر عرب صاحب کو جرات نہ ہوئی کہ اتنی مجلس میں ترجمہ ٹوٹے پھوٹے اُردو میں سنا دیں اس رسالہ کہ سناد کے ایک مقام پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ مجھے اس جگہ ان کے الفاظ سے یہ تحریک ہوئی ہے کہ مسیح کے بارہ میں یہود کا موقف یہود لوگ حضرت مسی کو دو وجہ سے ملعون ٹھہراتے تھے