ملفوظات (جلد 3) — Page 343
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۴۳ جلد سوم دیتا ہے کہ یہ لوگ کبھی نہ آئیں گے کیونکہ ان کے دلوں پر رعب پڑ گیا ہے تو اب جب کہ شکار ہمارے نزدیک نہیں آتا تو ہمیں چاہیے کہ دور سے بذریعہ بندوق کے نشانہ بناویں۔ بوقت ظهر ) اس وقت حضرت اقدس تشریف لائے اور تھوڑی دیر مجلس کی مباحثہ مد میں ہماری فتح ہوئی کے مادے کا ر ہوتا رہا کہ مباحثہ در حقیقت تو ہم نے فتح پالی ہے صرف اتنی بات ہے کہ وہ دیہات کے لوگ تھے ان کو ان بار یک تو فتح پالی۔ باتوں کی سمجھ نہیں آئی مجھے خوشبو آتی ہے کہ آخر کا ر فتح ہماری ہے دسمبر کے آخر تک جو نشان ظاہر ہونے والے ہیں شاید یہ بھی ان میں سے ایک عظیم الشان نشان ہو جاوے یہ اللہ تعالیٰ کی عادت ہے جیسے فرمایا وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ (القصص : (۸۴) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی تیرہ برس تک مکروہات ہی پہنچتے رہے۔ ( بوقت عصر ) اس وقت حضرت اقدس تشریف لاکر مباحثہ مد کے متعلق ہی ذکر کرتے رہے۔ خدا کے برگزیدوں کی بھی عجیب حالت ہوتی ہے کہ جب ایک بات کی طرف توجہ ہو جاوے تو پھر رات دن اسی کی طرف توجہ رہتی ہے گویا کہ بالکل اس میں مستغرق ہیں اور دنیا و مافیہا کی خبر نہیں ۔ مہمان تکلف نہ کیا کریں میر صاحب نے عبد الصمد صاحب آمده از کشمیر کو آگے بلا کر حضور کے قدموں کے نزدیک جگہ دی اور حضرت اقدس سے عرض کی کہ ان کو یہاں ایک تکلیف ہے کہ یہ چاولوں کے عادی ہیں اور یہاں روٹی ملتی ہے۔ حضرت اقدس نے فرمایا ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ مَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ ( ص : ۸۷ ) ہمارے مہمانوں میں سے جو تکلف کرتا ہے اسے تکلیف ہوتی ہے اس لئے جو ضرورت ہو کہہ دیا کرو۔ پھر آپ نے حکم دیا کہ ان کے لئے چاول پکوا دیا کرو۔