ملفوظات (جلد 3) — Page 342
فرمایا۔ولد الزّنا میں حیا کامادہ نہیں ہوتا اسی لئے خدا تعالیٰ نے نکاح کی بہت تاکید کی ہے۔۱ (صبح کی سیر) عربی نویسی میں مقابلہ اس اَمر کا تذکرہ تھا کہ بعض نادان مُلّاں جب ہر طرح مقابلہ سے عاجز آجاتے ہیں اور ان پر اتمامِ حجّت کے لئے کہا جاتا ہے کہ فصیح بلیغ عربی نویسی میں مقابلہ کر لو تو یہ کہہ کر پیچھا چھڑاتے ہیں کہ ان کتابوں میںغلطیاںہیں۔فرمایا۔غلطیاں نکالنے کا جو دعویٰ کرتے ہیں اس میں تویہ اَمر بجائے خود تنقیح طلب ہے کہ جو غلطی انہوں نے نکالی ہے خود ان کی اپنی ہی غلطی تو نہیں۔مولوی محمد حسین صاحب نے عَـجِبْتُ لِاَمْرِیْ پرجب اعتراض کیا کہ لام صلہ نہیں بلکہ مِنْ آتا ہے تو اسے کیسا شرمندہ ہونا پڑا۔بالمقابل لکھ کر تو دکھائیں۔دعوت تو لکھنے کی ہے نہ غلطیاں نکالنے کی اور پھر ایسی حالت میں یہ بہانہ کب چل سکتا ہے جب اپنی نکالی ہوئی غلطیوں میں خود ان کی ہی غلطیاں ہوں۔۲ ۳؍نومبر ۱۹۰۲ء بروز دوشنبہ(بوقتِ سیر) مباحثات کا طریق حضرت اقدس حسب معمول سیر کے لئے تشریف لائے اور سیر کو چلے اور اس اَمر پر آپ نے تذکرہ فرمایا کہ مباحثات میں ہمیشہ یہ اَمر مدِّ نظر رکھنا چاہیے کہ فریق مخالف اپنی روباہ بازی سے سامعین کو دھوکا نہ دے جاوے۔اکثر ایسا ہوتا ہے کہ سامعین کے باطل عقائد کے موافق یہ لوگ ہماری طرف سے ایسی باتیں ان کو سناتے ہیں کہ جن سے وہ لوگ معاً بھڑک جاویں اور برانگیختہ ہو جاویں ایسی صورت میں پھر خواہ ان کے آگے کچھ ہی کہو وہ لوگ ایک نہیں سنتے جیسے مولوی صاحب نے کل اپنا ذکر سنایا تھا۔اور پھر طریق بحث پر ایک جگہ فرمایا کہ بلاغت کا کمال یہ بھی ہے کہ ایک بات دوسرے کے دل تک پہنچائی جاوے ورنہ اگر کوئی کلام