ملفوظات (جلد 3) — Page 341
(بوقتِ عصر) مرکزی اخبارات کو محتاط رہنے کی ہدایت اس وقت نماز کے بعد حضرت اقدس نے الحکم اور البدر کے ایڈیٹروں کو بلا کر تاکید کی کہ وہ مضامین کے قلمبند کرنے میں ہمیشہ محتاط رہا کریں ایسا نہ ہو کہ غلطی سے کوئی بات غلط پیرایہ میں بیان ہو جاوے یا کسی الہام کے الفاظ غلط شائع ہوں تو اس سے معترض لوگ دلیل پکڑیں اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ آپ ایسے مضامین مولوی محمد علی صاحب ایم اے کو دکھا لیا کریں اس میں آپ کو بھی فائدہ ہے اور تمام لوگ بھی غلطیوں سے بچتے ہیں۔مباحثہ مُدّ حضرت اقدس نے بعد نماز مغرب حسب دستور جلوس فرماکر مباحثہ موضع مُد کے حُسن وقبح پر تذکرہ کیا کہ یہ مولوی لوگ عوام کے بھڑکانے کے واسطے عجیب عجیب حیلہ گھڑتے ہیں اور حق رسی سے ان کو کوئی کام نہیں ہوتا۔اس پر مولانا عبد الکریم صاحب اور مولانا حکیم نور الدین صاحب نے اپنے اپنے مباحثات سنائے جن میں مخالفین نے عوام الناس کو اصل مقام بحث سے بالکل الگ تھلگ باتیں سنا کر اس لئے بھڑکایا تھا کہ جنگ اور فساد ہو اور عام جہال مولانا صاحبان کی آبرو پر حملہ کریں۔حکیم نور الدین صاحب کے واقعات ایک خوارقِ عادت رنگ رکھتے تھے کہ عین مباحثہ کے اوقات میں انہوں نے مخالفت عام دیکھ کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور ایسے اسباب اسی وقت پیدا ہو گئے کہ جماعت مخالف کو نیچا دیکھنا پڑا۔یہ تمام اذکار اور نظائر اس لئے سنائے گئے تھے کہ ہمارے بھائی ہمیشہ مباحثہ میں اس اَمر کا خیال رکھیں کہ لوگوں کے فہم کے مطابق باتیں کریں جو لوگ باریک بین اور نکتہ رَس نہیں ہوتے ان کے رو برو باریک در باریک حقائق اور معارف بیان کرنے گویا دیدہ دانستہ مخالف کو ڈگری دینی ہوتی ہے۔