ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 340 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 340

پھر آتھم والی پیشگوئی کی تفصیل کرتے ہوئے فرمایا کہ وہاں تو یہ لکھا ہے کہ بشرطیکہ اس کی طرف رجوع نہ کرے یہ تو نہیں لکھا کہ بشرطیکہ مسلمان ہو جاوے۔اس سے اوّل وہ رسول اللہ کو دجّال لکھ چکا تھا اور یہی وجہ مباحثہ کی تھی پھر جب میں نے پیشگوئی سنائی تو اس نے اسی وقت کانوں پر ہاتھ دھرے اور کہا کہ توبہ توبہ میں تو دجّال نہیں کہتا۔عذابوں کے نزول کی وجہ یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ صرف عیسائی ہونا یا بُت پرست ہونا اس اَمر کاموجب نہیں ہوتا کہ دنیا میں عذاب آوے ایسے عذابوں کے لئے تو قیامت کا دن مقرر ہے۔عذاب ہمیشہ شوخیوں پر آتا ہے اگر ابو جہل وغیرہ شرارتیں نہ کرتے تو عذاب نازل نہ ہوتا۔نرے باطل مذہب کے پابند ہونے پر نہ کوئی عذاب ہوتا ہے نہ کوئی پیشگوئی۔ہمیشہ زیادہ شوخیوں پر پیشگوئیاں ہوتی ہیں یہود کو مغضوب علیہم اسی لئے کہا کہ انہوں نے شوخیاں کیں گستاخیاں کیں ان پر غضب وارد ہوئے لیکن ضالّین کو مغضوب علیہم نہ کہا حالانکہ آخرت میں تو عذاب یہود کو بھی ہونا ہے اور نصاریٰ کو بھی۔مگر چونکہ انہوں نے شوخی نہ کی اس لئے دنیا میں ان پر غضب نازل نہیں ہوا۔انسان کیسے ہی بُت پرست، انسان پرست کیوں نہ ہو مگر جب تک شرارت نہ کرے عذاب نہیں آتا اگر ان باتوں پر بھی عذاب دنیا میں ہی آجاوے تو پھر قیامت کو کیا ہوگا۔یہودیوں پر عذاب اسی لئے آئے کہ انہوں نے پیغمبروں کو دکھ دیئے ان کے قتل کے منصوبے کئے ان کی گستاخیاں کیں۔کافروں کے لئے اصل زنداں تو قیامت ہی ہے۔اس پر سوال ہوتا ہے کہ پھر دنیا میں کیوں عذاب آتا ہے تو جواب یہی ہے کہ شوخیوں کے واسطے آتا ہے۔عوام النّاس سے ہمیشہ موٹی موٹی باتیں کرنی چاہئیں۔خدا تعالیٰ نے جو معجزات نبوت کی جزو رکھے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ عوام فائدہ اٹھاویں کیونکہ خواص کے لئے معجزات کی ضرورت نہیں ہوتی ان کے لئے تو حقائق اور معارف ہی کافی ہیں عوام کو چونکہ یہ معرفت نہیں ہوتی اس لئے ان کے خوش کرنے کو معجزات رکھے گئے ہیں۔