ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 339 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 339

وعیدی پیشگوئی ٹل سکتی ہے یونس ؑ نبی کی پیشگوئی موجود تھی اس میں کوئی شرط بھی نہ تھی اور دُرِّمنثور میں بھی حدیث ہے کہ یونسؑ نے کہا کہ لَنْ اَرْجِعَ کَذَّابًا یعنی میں جھوٹا کہلا کر واپس نہ جائوں گا۔دیکھو اس میں کوئی شرط نہ تھی وعید میں خدا کو حق لازم نہیں آتا کہ ضرور عذاب نازل کرے۔دیکھا جاتا ہے کہ جب بَلا آتی ہے تو صدقہ خیرات کرنے سے ٹل جاتی ہے صرف فرق یہ ہوتا ہے کہ ایسی بَلا کا قبل ازوقت بیان نہیں ہوتا نہ اس کی پیشگوئی ہوتی ہے اور پیشگوئی میں بَلا کا قبل از وقت بیان کر دیا جاتا ہے بہر حال وہ بھی خدا کے علم میں تو قبل از وقت ہی ہوتی ہے۔قرآن میں بار بار ذکر ہے کہ ہم نے فلاں قوم کی ہلاکت کا ارادہ کیا مگر جب انہوں نے توبہ کی تو پھر عذاب ہلاکت ٹل گیا۔توریت میں بھی ذکر ہے کہ موسیٰ کی دعا سے بار بار عذاب ٹلتا رہا وعید میں تخلّف جائز ہے۔اہلِ کتاب کا کوئی ایسا فرقہ نہیں کہ جو اسے نہ مانتا ہو۔ہندو بھی مانتے ہیں کہ صدقہ سے بَلا ٹل جاتی ہے جب ٹل گئی تو پیشگوئی بدل گئی قرآن میں بھی ہے يُصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِيْ يَعِدُكُمْ(المؤمن : ۲۹) یعنی عذابی پیشگوئیوں کا بعض حصہ تو پورا ہو گا اور بعض بوجہ توبہ و استغفار ٹل جاوے گا۔نبی سے اجتہادی غلطی ہو سکتی ہے منہاجِ نبوت کو دیکھا جاوے تو صریح نظر آتا ہے کہ انبیاؤوں سے اجتہادوں میں غلطیاں ہوتی ہیں جیسے عیسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ تم ابھی نہیں مَرو گے کہ میں واپس آجائوں گا تو یہ آپ کا اجتہاد تھا مگر خدا تعالیٰ کے نزدیک ان کے آنے سے یہ مُراد نہ تھی بلکہ دوسرے کا آنا تھا اور ممکن ہے کہ الیاس کا بھی یہ خیال ہو کہ میں ہی واپس آئوں گا اسی طرح پیغمبرِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کا سفر کیا تو حضرت عمرؓ کو ابتلا آیا خود آنحضرتؐکا اجتہاد اس طرف دلالت کرتا تھا کہ ہم فتح کر لیویں گے مگر وہ اجتہاد صحیح نہ نکلا۔اسی طرح ایک دفعہ آپ نے کہا کہ میں نے سمجھا تھا کہ ہجرت یمامہ کی طرف ہوگی مگر یہ بات درست نہ نکلی کیونکہ یہ آپ کا اجتہاد تھا خدا پر یہ اَمر لازم نہ تھا کہ ہر ایک باریک اَمر آپ کو بتلا دیوے پس بحث مباحثہ میں اوّل مخالف سے منہاجِ نبوت کو قبول کروا کر اس کے دستخط کروالینے چاہئیں۔