ملفوظات (جلد 3) — Page 339
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۳۹ جلد سوم کو ابتلا آیا خود آنحضرت کا اجتہاد اس طرف دلالت کرتا تھا کہ ہم فتح کر لیویں گے مگر وہ اجتہاد صحیح نہ نکلا۔ اسی طرح ایک دفعہ آپ نے کہا کہ میں نے سمجھا تھا کہ ہجرت یمامہ کی طرف ہوگی مگر یہ بات درست نه سی ۔ نہ نکلی کیونکہ یہ آپ کا اجتہاد تھا خدا پر یہ امر لازم نہ تھا کہ ہر ایک بار یک امر آپ کو بتلادیوے پس بحث مباحثہ میں اوّل مخالف سے منہاج نبوت کو قبول کروا کر اس کے دستخط کروا لینے چاہئیں ۔ پھر آتھم والی پیشگوئی کی تفصیل کرتے ہوئے فرمایا کہ وہاں تو یہ لکھا ہے کہ بشرطیکہ اس کی طرف رجوع نہ کرے یہ تو نہیں لکھا کہ بشر طیکہ مسلمان ہو جاوے۔ اس سے اول وہ رسول اللہ کو دجال لکھ چکا تھا اور یہی وجہ مباحثہ کی تھی پھر جب میں نے پیشگوئی سنائی تو اس نے اسی وقت کانوں پر ہاتھ دھرے اور کہا کہ تو بہ تو بہ میں تو دجال نہیں کہتا۔ کہ بہ یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ صرف عیسائی ہونا یا بت پرست ہونا اس عذابوں کے نزول کی وجہ امر کا موجب نہیں ہوتا کہ دنیا میں عذاب آوے ایسے عذابوں کے لئے تو قیامت کا دن مقرر ہے۔ عذاب ہمیشہ شوخیوں پر آتا ہے اگر ابو جہل وغیرہ شرارتیں نہ کرتے تو عذاب نازل نہ ہوتا۔ نرے باطل مذہب کے پابند ہونے پر نہ کوئی عذاب ہوتا ہے نہ کوئی پیشگوئی ۔ ہمیشہ زیادہ شوخیوں پر پیشگوئیاں ہوتی ہیں یہود کو مغضوب علیہم اسی لئے کہا کہ انہوں نے شوخیاں کیں گستاخیاں کیں ان پر غضب وارد ہوئے لیکن ضالین کو مغضوب علیہم نہ کہا حالانکہ آخرت میں تو عذاب یہود کو بھی ہونا ہے اور نصاری کو بھی۔ مگر چونکہ انہوں نے شوخی نہ کی اس لئے دنیا میں ان پر غضب نازل نہیں ہوا ۔ انسان کیسے ہی بت پرست انسان پرست کیوں نہ ہو مگر جب تک شرارت نہ کرے عذاب نہیں آتا اگر ان باتوں پر بھی عذاب دنیا میں ہی آجاوے تو پھر قیامت کو کیا ہوگا۔ یہودیوں پر عذاب اسی لئے آئے کہ انہوں نے پیغمبروں کو دکھ دیئے ان کے قتل کے منصوبے کئے ان کی گستاخیاں کیں ۔ کافروں کے لئے اصل زنداں تو قیامت ہی ہے۔ اس پر سوال ہوتا ہے کہ پھر دنیا میں کیوں عذاب آتا ہے تو جواب یہی ہے کہ شوخیوں کے واسطے آتا ہے۔ عوام الناس سے ہمیشہ موٹی موٹی باتیں کرنی چاہئیں ۔ خدا تعالیٰ نے جو معجزات نبوت کی جزو