ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 338 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 338

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۳۸ جلد سوم اور اول اس پر فیصلہ کر کے پھر آگے چلے اور دوسرا لے لیوے ۔ اوّل قواعد مقرر کئے جاویں یہ امر بھی دیکھا جاوے کہ منہاج نبوت کو مانتا ہے کہ نہیں ۔ اس کے نے بار بار عبد اللہ آتھم کی پیشگوئی کا تکرار کیا کہ وہ پوری نہ ہوئی ۔ اگر منہاج نبوت کا فیصلہ اول کر لیا جاتا تو اس طرح کا دھو کہ کب دے سکتا تھا۔ یونس نبی کی پیشگوئی موجود تھی اس میں کوئی شرط بھی نہ تھی اور وعیدی پیشگوئی مل سکتی ہے۔ دو منٹور میں بھی حدیث ہے کہ یونس نے کہا کہ کن ارجع گذابا یعنی میں جھوٹا کہلا کر واپس نہ جاؤں گا ۔ دیکھو اس میں کوئی شرط نہ تھی وعید میں خدا کو حق لازم نہیں آتا کہ ضرور عذاب نازل کرے۔ دیکھا جاتا ہے کہ جب بلا آتی ہے تو صدقہ خیرات کرنے سے ٹل جاتی ہے صرف فرق یہ ہوتا ہے کہ ایسی بلا کا قبل از وقت بیان نہیں ہوتا نہ اس کی پیشگوئی ہوتی ہے اور پیشگوئی میں بلا کا قبل از وقت بیان کر دیا جاتا ہے بہر حال وہ بھی خدا کے علم میں تو قبل از وقت ہی ہوتی ہے۔ قرآن میں بار بار ذکر ہے کہ ہم نے فلاں قوم کی ہلاکت کا ارادہ کیا مگر جب انہوں نے توبہ کی تو پھر عذاب ہلاکت ٹل گیا۔ توریت میں بھی ذکر ہے کہ موسیٰ کی دعا سے بار بار عذاب ٹلتا رہا وعید میں تخلف جائز ہے۔ اہل کتاب کا کوئی ایسا فرقہ نہیں کہ جو اسے نہ مانتا ہو۔ ہندو بھی مانتے ہیں کہ صدقہ سے بلائل جاتی ہے جب ٹل گئی تو پیشگوئی بدل گئی قرآن میں بھی ہے يُصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمُ (المؤمن : ۲۹) یعنی عذابی پیشگوئیوں کا بعض حصہ تو پورا ہو گا اور بعض بوجہ تو بہ واستغفار ٹل جاوے گا۔ منہاج نبوت کو دیکھا جاوے تو صریح نظر آتا ہے کہ نبی سے اجتہادی غلطی ہوسکتی ہے انبیاؤوں سے اجتہ ہے انبیاؤوں سے اجتہادوں میں غلطیاں ہوتی ہیں جیسے عیسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ تم ابھی نہیں مرو گے کہ میں واپس آجاؤں گا تو یہ آپ کا اجتہا دتھا مگر خدا تعالیٰ کے نزدیک ان کے آنے سے یہ مراد نہ تھی بلکہ دوسرے کا آنا تھا اور ممکن ہے کہ الیاس کا بھی یہ خیال ہو کہ میں ہی واپس آؤں گا اسی طرح پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کا سفر کیا تو حضرت عمر لے یعنی مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری