ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 338 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 338

مکذّب فریق نے اس کی تکذیب کے دلائل اپنے ذمہ لئے تھے ہر ایک فریق ہر ایک اَمر پر بیس بیس منٹ تک لکھتا تھا اور سنا دیتا تھا پھر ایک دوسرے کا دونوں جواب الجواب لکھتے تھے۔بہرحال فریقِ مکذّب نے اس مباحثہ میں قرآن کی طرف مطلق رجوع نہ کیا اور مصدّق فریق نے جو جو معیار صداقت قرآن کریم سے پیش کیے تھے ان کا اس سے کوئی جواب بن نہ آیا۔چنانچہ پریزیڈنٹ جلسہ نے اٹھ کر علانیہ بیان کر دیا کہ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ (المآئدۃ:۱۱۸)کا جواب مولوی ثناء اللہ صاحب سے کوئی بن نہیں آیا۔اس کی روئیداد سننے پر حضرت اقدس پھر انہیں امور کا بار بار اعادہ فرماتے رہے جو کہ سیر میں مناظرہ اور مباحثہ کے متعلق فرماتے تھے تا کہ سامعین کے ذہن نشین وہ باتیں ہو جاویں۔۱ ۲؍نومبر ۱۹۰۲ء بروز یکشنبہ(بوقتِ سیر) مُدّ کے حالاتِ مباحثہ پر تبصرہ حضرت اقدس حسبِ معمول سیر کے لئے تشریف لائے اور آتے ہی پھر اس مناظرہ پر حضور نے گفتگو شروع کی جس کی کارروائی گذشتہ شب کو درج کی جا چکی ہے۔آپ نے فرمایا کہ آج کل ان مولویوں کا دستور ہے کہ چالیس پچاس جھوٹ ایک دفعہ ہی بیان کر دیتے ہیں اب ان کا فیصلہ تین چار منٹ میں دوسرا فریق کس طرح کرے پادریوں کا بھی یہی طریق ہے کہ ایک دَم اعتراض کرتے چلے جاتے ہیں ایسے وقت میں یہ طریق اختیار کرنا چاہیے کہ ایک اعتراض چُن لیوے اور اوّل اس پر فیصلہ کر کے پھر آگے چلے اور دوسرا لے لیوے۔اوّل قواعد مقرر کئے جاویں یہ اَمر بھی دیکھا جاوے کہ منہاجِ نبوت کو مانتا ہے کہ نہیں۔اس۱ نے بار بار عبداﷲ آتھم کی پیشگوئی کا تکرار کیا کہ وہ پوری نہ ہوئی۔اگر منہاجِ نبوت کا فیصلہ اوّل کر لیا جاتا تو اس طرح کا دھوکہ کب دے سکتا تھا۔