ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 337 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 337

رہے اور اپنی قوم کی بد اعتقادی کی حالت دیکھ کر انہوں نے ان کی اصلاح کی اور صلیب کو توڑا اور خنزیروں کو قتل کیا اور پھر باوجود اس کامل علم کے خدا کے سامنے جھوٹ بولتے ہیں کہ مجھ کو خبر نہیں ہے۔(بوقتِ عصر) مباحثہ مُدّ کی روئیداد اس وقت حضرت اقدس نے نماز سے پیشتر مجلس فرمائی سید سرور شاہ صاحب اور عبداللہ صاحب کشمیری جو کہ موضع مُد میں تبلیغ اور مشاہدہ کے لئے تشریف لے گئے تھے بخیرو عافیت واپس آئے اور حضرت اقدس سے نیاز حاصل کی اور وہاں کے جلسہ مباحثہ کی مختصر تفصیل سنانے لگے۔حضرت اقدس نے اختصاراً ان تمام باتوں کا اعادہ کیا جو کہ آپ نے سیر میں فرمائی تھیں کہ مباحثہ میں ہماری جماعت کو کیا پہلو اختیار کرنا چاہیے اور پھر تمام کیفیت مباحثہ سننے کے لئے شام کا وقت مقرر ہوا۔بعدادائے نماز مغرب حضرت اقدس نے جلوس فرماتے ہی حکم صادر فرمایا کہ مباحثہ موضع مُد کی کارروائی سنائی جاوے۔چنانچہ عبداﷲ کشمیری صاحب اٹھ کر سنانے لگے۔سب سے اوّل حضرت اقدس کو اس اَمر پر کمال افسوس ہوا کہ فریقین نے صرف بیس بیس منٹ اپنے اپنے دعاوی کے متعلق دلائل لکھنے کے لئے قبول کئے۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ ایسی صورت میں ہرگز مباحثہ قبول نہیں کرنا چاہیے تھا یہ تو ایک قسم کا خون کرنا ہے جب ہم مدعی ہیں تو ہمیں اپنے دعاوی کے دلائل کے واسطے تفصیل کی ضرورت ہے جو کہ وقت چاہتی ہے اور جب دلائل لکھے جاتے ہیں تو توجہ ہوتی ہے اس میں فیضانِ الٰہی ہوتا ہے اس کا ہم کیا وقت مقرر کر سکتے ہیں کہ کب تک ہو۔غرضیکہ حضرت اقدس نے اس بات کو بالکل نا پسند فرمایا کہ وقت میں کیوں تنگی اختیار کی گئی۔پھر عبداللہ صاحب کشمیری نے وہ تمام تحریریں پڑھ کر سنائیں۔ہماری جماعت کی طرف سے مذکورہ بالا دو اصحاب تھے اور فریق مخالف کی طرف سے مولوی ثناء اللہ صاحب تھے۔مباحثہ اس طریق سے ہوا تھا کہ مصدّق فریق نے وفاتِ مسیح، نزولِ مسیح اور حضرت اقدس کے مسیح موعود ہونے کے دلائل اپنے ذمہ لیے تھے اور