ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 336 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 336

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۳۶ جلد سوم فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي (المائدة : ۱۱۸) سے دو فائدہ ہماری فَلَمَّا توفيتنى سے دو فائدے جماعت کو اٹھانے چاہئیں ایک تو یہ کہ علی اس میں کہتے تَوَفَّيْتَنِی عیسی ہیں کہ میری وفات کے بعد میری اُمت بگڑی ہے جس کی مجھ کو خبر نہیں ہے پس اگر عیسی ابھی تک نہیں فوت ہوئے تو پھر یہ بھی مان لینا چاہیے کہ ابھی تک عیسائی صراط مستقیم پر ہیں اور بلحاظ دین کے ان میں کوئی فساد نہیں ۔ دوسری بات یہ کہ اگر اس آیت کا اطلاق ان پر ان کے دوبارہ آنے کے بعد ہے تو اس صورت میں مسیح بہت کذاب ٹھہرتے ہیں کہ باوجود اس کے کہ وہ دوبارہ دنیا میں آکر چالیس سال رہے اور اپنی قوم کی بداعتقادی کی حالت دیکھ کر انہوں نے ان کی اصلاح کی اور صلیب کو توڑا اور خنزیروں کو قتل کیا اور پھر باوجود اس کامل علم کے خدا کے سامنے جھوٹ بولتے ہیں کہ مجھ کو خبر نہیں ہے۔ ( بوقت عصر ) اس وقت حضرت اقدس نے نماز سے پیشتر مجلس فرمائی سید سرور شاہ صاحب اور باحثہ مد کی روئیداد عبداللہ صاحب کشمیر جو کہ موضع پر میں تبلیغ اور مشاہدہ کے لئے تشریف مدلی لے گئے تھے بخیر و عافیت واپس آئے اور حضرت اقدس سے نیاز حاصل کی اور وہاں کے جلسہ مباحثہ کی مختصر تفصیل سنانے لگے۔ حضرت اقدس نے اختصارا ان تمام باتوں کا اعادہ کیا جو کہ آپ نے سیر میں فرمائی تھیں کہ سیر مباحثہ میں ہماری جماعت کو کیا پہلو اختیار کرنا چاہیے اور پھر تمام کیفیت مباحثہ سننے کے لئے شام کا وقت مقرر ہوا۔ بعد ادائے نماز مغرب حضرت اقدس نے جلوس فرماتے ہی حکم صادر فرمایا کہ مباحثه موضع محمد کی کارروائی سنائی جاوے۔ چنانچہ عبداللہ کشمیری صاحب اٹھ کر سنانے لگے۔ سب سے اول حضرت اقدس کو اس امر پر کمال افسوس ہوا کہ فریقین نے صرف بیس بیس منٹ اپنے اپنے دعاوی کے متعلق دلائل لکھنے کے لئے قبول کئے ۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ ایسی صورت میں ہرگز مباحثہ قبول نہیں کرنا چاہیے تھا یہ تو ایک قسم کا خون کرنا ہے جب ہم مدعی ہیں تو ہمیں اپنے دعاوی کے دلائل کے واسطے تفصیل کی ضرورت ہے جو کہ وقت چاہتی ہے اور جب دلائل لکھے