ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 336 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 336

حدیث کا مقام حدیث کے متعلق ہمارا مذہب ہے کہ ادنیٰ سے ادنیٰ بھی ہو تو اس پر عمل کر لیا جاوے جب تک کہ وہ مخالف قرآن نہ ہو۔پھر سنّت پر ذکر ہوتے ہوتے فرمایا کہ امام اعظم علیہ الرحمۃ نے رفع یدین پر کیوں عمل نہ کیا۔کیا اس وقت حدیث کے راوی نہ تھے راوی تو تھے مگر چونکہ یہ سنّت اس وقت ان کو نظر نہ آئی اس لئے انہوں نے عمل نہیں کیا۔مولویوں کی بدقسمتی ہے کہ یہودونصاریٰ محرّف ومبدّل توریت کو لئے پھرتے ہیں اور یہ بجائے قرآن کے حدیثوں کو لئے پھرتے ہیں۔غیر ازجماعت کی نماز جنازہ نماز جنازہ پڑھنے پر آپ نے فرمایا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منافق کو کُرتہ دیا اور اس کے جنازہ کی نماز پڑھی۔ممکن ہے کہ اس نے غرغرہ کے وقت توبہ کر لی ہو۔مومن کا کام ہے کہ حُسنِ ظن رکھے اسی لئے نماز جنازہ کا جواز رکھا ہے کہ ہر ایک کی پڑھ لی جاوے۔ہاں اگر کوئی سخت معاند ہو یا فساد کا اندیشہ ہے تو پھر نہ پڑھنی چاہیے ہماری جماعت کے سَر پر فرضیت نہیں ہے بطور احسان کے ہماری جماعت دوسرے غیر ازجماعت کا جنازہ پڑھ سکتی ہے۔وَصَلِّ عَلَيْهِمْ اِنَّ صَلٰوتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ (التّوبۃ : ۱۰۳)اس میں صلوٰۃ سے مُراد جنازہ کی نماز ہے سَكَنٌ لَّهُمْ دلالت کرتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا گنہگار کو سکینت اور ٹھنڈک بخشتی تھی۔فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ سے دو فائدے فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ (المائدۃ : ۱۱۸) سے دو فائدہ ہماری جماعت کو اٹھانے چاہئیں ایک تو یہ کہ عیسٰیؑ اس میں کہتے ہیں کہ میری وفات کے بعد میری اُمّت بگڑی ہے جس کی مجھ کو خبر نہیں ہے پس اگر عیسٰیؑ ابھی تک نہیں فوت ہوئے تو پھر یہ بھی مان لینا چاہیے کہ ابھی تک عیسائی صراطِ مستقیم پر ہیں اور بلحاظ دین کے ان میں کوئی فساد نہیں۔دوسری بات یہ کہ اگر اس آیت کا اطلاق ان پر ان کے دوبارہ آنے کے بعد ہے تو اس صورت میں مسیحؑ بہت کذّاب ٹھہرتے ہیں کہ باوجود اس کے کہ وہ دوبارہ دنیا میں آکر چالیس سال