ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 331 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 331

خداکے فضل اورگمشدہ متاع کوواپس لاتاہے۔۱ یکم نومبر ۱۹۰۲ء بروز شنبہ (بوقتِ سیر ) حضرت اقدس حسبِ دستور سیر کے لئے نکلے تمام راہ میاں فتح دین صاحب مولوی حضرت اقدس کے مخاطب رہے حضرت اقدس بار بار ان کے ذہن نشین یہ اَمر کراتے رہے کہ مباحثات میں ہمیشہ دیگر طریق استدلال کو چھوڑ کر اس طریق کو اختیار کرنا چاہیے کہ قرآن شریف مقدم ہے اور احادیث ظن کے مرتبہ پر ہیں قرآن شریف سے جو اَمر ثابت ہواس کوکوئی حدیث خواہ پچاس کروڑ ہوں ہرگز رد کر نہیں سکتیں۔چونکہ اس گفتگومیںمیاںفتح دین صاحب بھی بعض اوقات احادیث سے اپنے استنباط جو کہ انہوں نے اپنی منظوم کتاب میںدرج کئے ہیں مفصّل حضرت اقدس کوسناتے رہے اور حضرت اقدس مختلف طور پر ان کوسمجھاتے رہے اس لئے ہم حضرت اقد س کے کلمات کو مختصراً درج کرتے ہیں۔اِسلام کامدار قرآن شریف پر ہے ان لوگوں سے پوچھنا چاہیے کہ تم خود قائل ہو کہ اصح کتاب قرآن شریف ہے احادیث ۱۵۰ برس بعد جمع ہوئیں پھر ان میں باہم تناقض ہے ایک میں مہدی کا ذکر ہے ایک میں ہے لَا مَھْدِیَ اِلَّا عِیْسٰی۔ایک طرف مہدی کی حدیث ضعیف لکھی ہے پھر کہتے ہیں کہ مسیح اوپر سے اترے گا تو ایک طرح سے ایک ٹانگ ٹوٹ گئی جب قرآن شریف بار بار اوپر کے آنے سے منع کرتا ہے تو حدیث جو کسی طرح سے خواہ حقیقتاً خواہ استعارہ کے طور پر قرآن شریف کے برابر نہ آسکے تو وہ ہر حال میں ناقابلِ اعتبار ٹھہرے گی ورنہ اس طرح سارا اسلام درہم برہم ہو جاوے گا۔تمام ستون اور مدار اسلام کا قرآن پر ہے جب قرآن شریف میں ہے کہ عیسیٰ فوت ہو گئے پھر انکار کیسا؟ پھر فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ (المائدۃ : ۱۱۸) کی نسبت آپ مولوی فتح دین کو سمجھاتے رہے۔پھر احادیث کے بیان کی طرف رجوع کر کے فرمایا کہ