ملفوظات (جلد 3) — Page 325
آنحضرتؐاپنے مثیل موسیٰ سے ہر پہلومیں بڑھے ہوئے تھے اور گویا آپ اصل اور موسیٰ آپ کا ظِل تھے اسی طرح مسیح موعود موسوی مسیح سے نسبت رکھتا ہے۔نصرا نیت کااثر نصرانیت کااثر آج کل عام ہورہا ہے بعض تو بالکل مرتد ہوگئے ہیں او ربعض نے اور نہیں تو فیشن ہی میں ان کا تتبع کر لیا ہے۔نیکی اور بدی کی کشش فرمایا۔انسان کے اندر نیکی اور بدی کی ایک کشش ہے آدمی نیکی کرتا ہے مگر نہیں سمجھ سکتا کہ کیوں نیکی کرتا ہے اسی طرح ایک شخص بدی کی طرف جاتا ہے لیکن اگر اس سے پوچھا جاوے تو کدھرجاتا ہے تو وہ نہیں بتا سکتا۔مثنوی رومی میں ایک حکایت اس کشش پہ لکھی ہے کہ ایک فاسق آقا کا ایک نیک غلام تھاصبح کو جو مالک نوکر کو لے کر بازار سودا خریدنے کو نکلا توراستہ میں آذان کی آوازسن کر نوکر اجازت لے کر مسجد میں نماز کو گیا اور وہاں جو اسے ذوق اور لذّت پیدا ہوا تو بعد نمازذکر میں مشغول ہوگیاآخر آقانے انتظار کر کے اس کو آواز دی اور کہا کہ تجھے اندر کس نے پکڑلیا۔نوکر نے کہا کہ جس نے تجھے اندر آنے سے باہر پکڑلیا۔غرض ایک کشش لگی ہوئی ہے اسی کی طرف خدا نے اشارہ فرمایا ہے كُلٌّ يَّعْمَلُ عَلٰى شَاكِلَتِهٖ (بنیٓ اسرآءیل : ۸۵) ۱ ۳۰؍اکتوبر ۱۹۰۲ء (صبح کی سیر ) الہام ’’نتیجہ خلاف امید ہے ‘‘ اس کی کوئی تصریح نہیں فرمائی گئی۔آج کی سیر میں متفرق مقامی اور آنی امور پر سلسلہ گفتگو کا شروع رہا اور ختم ہوا۔( دربارِشام ) ضرورت عمل کی ہے میاں نبی بخش نمبر دار پنڈوری نے عرض کی کہ حضور میں کچھ لکھا پڑھا آدمی نہیں ہوں۔