ملفوظات (جلد 3) — Page 325
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۰ اکتوبر ۱۹۰۲ء (صبح کی سیر) الہام نتیجہ خلاف امید ہے ۳۲۵ اس کی کوئی تصریح نہیں فرمائی گئی ۔ آج کی سیر میں متفرق مقامی اور آنی امور پر سلسلہ گفتگو کا شروع رہا اور ختم ہوا۔ ( در بار شام ) میاں نبی بخش نمبردار پنڈوری نے عرض کی کہ حضور میں کچھ لکھا پڑھا آدمی ضرورت عمل کی ہے نہیں ہوں ۔ وں ۔ فرمایا۔ علم کیا ، اصل ضرورت عمل کی ہے۔ قِيَامَ فِي مَا أَقَامَ اللهُ ایک شخص نے ملازمت چھوڑ کر تجارت کے متعلق مشورہ پوچھا۔ جلد سوم فرمایا۔ نوکری چھوڑنی نہیں چاہیے ۔ قِيَامٌ فِي مَا أَقَامَ اللهُ بھی ضروری ہے بلا وجہ ملا زمت چھوڑنا اچھا نہیں ہے۔ ایک ہندو نوجوان نے ( جو طالب حق اپنا نام رکھتا تھا ) تھا ) طلب حق کے لئے ضروری امور عرض کی کہ حضور میں ایک عرصہ سے طلب جن چاہتا ہوں حق مگر مجھے ابھی تک وہ راہ نہیں ملی ۔ فرمایا۔ طلب حق کے لئے دو چیزوں کی ضرورت ہے اول عقل سلیم چاہیے بعض لوگ طلب حق تو چاہتے ہیں۔ ہیں مگر غبی اور بلید طبع ہوتے ہیں اور قوت فیصلہ نہیں رکھتے اس لئے جو کچھ سمجھا یا جاوے اس کو سمجھ نہیں سکتے اور کل مذاہب ان کے سامنے پیش کئے جاویں تو وہ فیصلہ نہیں کر سکتے کہ ان میں سے حق کس کے ساتھ ہے یہ بیماری ہے طبیبوں نے اس کو سو فسطائی عقل لکھا ہے ان پر وہم غالب ہوتا ہے اس لئے اول طالب حق کے واسطے ضروری ہے کہ وہم غالب نہ ہو۔