ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 323 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 323

ہے مگر اس ایماندار اور وفادار قوم نے اپنی شجاعت اور وفاداری کا پورانمونہ دکھایا اور جو کچھ جوہر انہوں نے دکھائے وہ سچے ایمان اوریقین کے نتائج تھے۔موسیٰ علیہ السلام نے جب اپنی قوم کو کہا کہ بڑھ کر دشمن پر حملہ کرو تو انہوںنے کیا شرمناک جواب دیا فَاذْهَبْ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوْنَ (المائدۃ : ۲۵) تواورتیرا ربّ جاؤ اور لڑو ہم تو یہیں بیٹھے رہیں گئے۔صحابہؓ کی لائف میں ایساکوئی موقع نہیں آیابلکہ انہوںنے کہا کہ ہم ان میں سے نہیں ہیں جنہوں نے یہ کہا فَاذْهَبْ اَنْتَ وَ رَبُّكَ ایسی قوت اور شجاعت اور وفاداری کاجوش کیوں کر پیدا ہوگیا تھا؟ یہ سب ایمان اوریقین کانتیجہ تھا جو آپؐکی قوتِ قدسی اورتاثیر کااثر تھاآپ نے ان کو ایمان سے بھر دیا تھا۔مسیح کے حواریوں کاایمان مسیح کے حواریوں میں جو یہ ایمانی قوت پیدا نہیں ہوئی اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان کو ان کے معجزات پر کوئی قوی ایمان اوربھروسہ نہ تھا۔بلکہ اصل بات یہی ہے جیسا کہ بعض عیسائی مصنفوں نے بھی تسلیم کرلیا ہے کہ حواری دنیا دار اورسطحی خیال کے آدمی تھے انہیں یہ خیال تھاکہ یہ بادشاہ ہوجائے گا تو ہم کو عہدے ملیں گے۔ان کاتعلق ایک لالچ کے رنگ میں مسیح کے ساتھ تھااسی لیے وہ ایمانی قوت اور عرفانی مذاق ان میں پیدا نہ ہوا۔اگر وہ معجزات مسیح کودیکھتے کہ مُردوں کو زندہ کرتا ہے توکیا وجہ ہے کہ ایسے عجوبے دیکھ کر بھی ایمان میں قوت نہ آئے۔حقیقت یہی ہے کہ مسیح سے سلبِ امراض وغیرہ کے نشانات جو دیکھتے تھے وہ ایسے عام تھے کہ یہودی بھی کرتے تھے اور ایک تالاب پربھی مریض جاکر اچھے ہو جایاکرتے تھے۔اس لئے ان باتوں نے معجزات مسیح کی کوئی عظمت ان کے دل میں پیدا نہ کی اور وہ نُورِ یقین ومعرفت جو گناہوں کو زائل کرتا ہے ان میں پیدا نہیں ہوا۔اس لئے یہودا اسکریوطی جو مسیح کا خزانچی تھا اور جس کے پاس ایک ہزار روپیہ کی تھیلی رہتی تھی اس میں سے چُرا لیا کرتا تھا اور اسی لالچ نے اس کو تیس۳۰ درہم لے کر گرفتار کرانے پر آمادہ کیا۔