ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 319 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 319

ادھرکوئی توجہ نہیں۔پس اس سے صاف ثابت ہوتاہے کہ اگر میرایہ کام ہوتاتواس میں دوبارہ آنے کا اقرار نہ ہوتا۔یہ اقرار ہی بتاتا ہے کہ یہ خدا کاکام ہے۔اس پر مولانا مولوی عبدالکریم صاحب نے اس نکتہ سے خاص ذوق اٹھا کر عرض کیا کہ یہ بعینہٖ وہی بات ہے جو قرآن شریف کی حقّانیت پر پیش کی جاتی ہے کہ اگر یہ آنحضرتؐکا اپنا کلام ہوتا تواس میں زینب کاقصہ نہ ہوتا۔حضرت اقدس نے پھر اسی سلسلہ کلام میں فرمایا کہ اب کون سی نئی بات ہے جس کا ذکر براہین میں نہیں ہے۔براہین کو طبع ہوئے پچیس۲۵ برس کے قریب ہوگذرے ہیں اور اس وقت کے پیدا ہوئے بچے بھی اب بچوںکے باپ ہیں۔اس میں ساری باتیں درج ہیں بناوٹ کامقابلہ اس طرح پر ہوسکتا ہے کیا۔تیس برس پہلے ایک شخص ایسا منصوبہ کس طرح کر سکتا ہے جبکہ اسے اتنا بھی یقین نہیں کہ وہ اس قدر عرصہ تک زندہ رہے گا۔پھر کیوں کر میں اپنانام اتنے سال پہلے از خود عیسیٰ رکھ سکتا تھا اور ان کاموں کوجو اس کے ساتھ منسوب تھے اپنے ساتھ منسوب کرتا۔ہاں اس سے منصوبہ بے شک پایا جاتا اگر میں اس وقت لکھ دیتا کہ آنے والا میں ہی ہوں مگر اس وقت نہیں کہا باوجودیکہ هُوَ الَّذِيْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى کااعتراف کیاہے کہ میرے حق میں ہے یہ خدا کاکام تھا کہ مسیح کادعویٰ تواس میں بیان کیا مگراس کو چھپایا اور زبان سے نکلوا دیاکہ وہ آئے گا۔میں حلفاً کہتا ہوں کہ آج جودعویٰ کیا گیا ہے براہین میں یہ سارا موجود ہے ایک لفظ بھی کم و بیش نہیں ہوا اگر اس میں الہامات نہ ہوتے تواعتراض کی گنجائش ہوتی گو اس وقت بھی اعتراض فضول ہوتا کیونکہ وہ دعویٰ وحی سے نہیں تھا بلکہ اپنی ذاتی رائے تھی خدا تعالیٰ نے یہ اس لئے کیا تا ظنون اور جعل سازی کے وہم دور ہوں۔مسیح موعو د کے قریشی ہونے کی حقیقت دوسرا سوال ان کا اس اَمر پر تھا کہ آپ نے مسیح موعود کو لکھا ہے کہ وہ قریش میں سے نہیں اور پھر بعض جگہ یہ بھی لکھا ہے کہ وہ قریشی ہے ا س کی مطابقت کیوں کر ہو؟ فرمایا۔مسیح موعود کو جس طرزپر ہم کہتے ہیں کہ وہ قریش میں سے نہیں وہ اس اعتبار سے نہیں جیسے قریش ہیں۔اہلِ فارس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش میں سے ٹھہرایا ہے اور میرا الہام