ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 318 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 318

فائدہ اور ہماری تائید ہوتی ہے دیکھو! براہین میں ایک طرف مجھے مسیح موعود ٹھہرایا ہے اور وہ تمام وعدے جو آنے والے مسیح موعود کے حق میں ہیں میرے ساتھ کئے اور دوسری طرف ہم اپنے اسی قلم سے مسیح کے دوبارہ آنے کا اقرار کرتے ہیں اب ایک دانش مند اور خدا ترس مسلمان اس معاملہ میں غور کرے اور دیکھے کہ اگر یہ دعویٰ ہمارا افترا ہوتا اور ہم نے ازخود بنایا ہوتا یا منصوبہ بازی ہوتی تو اس قسم کا اقرار ہم اس میں کیوں کرتے؟ یہ سادگی صاف بتاتی ہے کہ جو کچھ خدا تعالیٰ نے ہم کو علم دیا اسے ہم نے ظاہر کیا۔بظاہر یہ کارروائی متنا قض ہے مگر ایک سعید الفطرت انسان کے لئے ایک روشن تر دلیل ہے۔کیونکہ جب تک خدا تعالیٰ نے ہم پر نہیں کھولا باوجود یکہ ہمارے ساتھ وہی وعدے جو مسیح موعود کے ساتھ تھے کیے جاتے اور اسی براہین میں میرا نام مسیح رکھا جاتا ہے اور هُوَ الَّذِيْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ الآیۃ الہام ہوتا ہے مگر اسی قلم سے میں لکھتا ہوں کہ مسیح موعود دوبارہ آئے گا ہم نے قِیَامٌ فِیْ مَا اَقَامَ اللہُ کو نہیں چھوڑا جب تک کہ آفتاب کی طرح کھل نہیں گیا۔یہی اعتراض ہماری سچائی کا گواہ ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب پہلے پہل وحی آئی تو آپ نے یہی فرمایا خَشِیْتُ عَلٰی نَفْسِیْ۔بیوی کہتی ہے کَلَّا وَ ﷲِ۔اور پھر بیوی نے کہا کہ آپؐضعفاء کے مدد گار ہیں آپ کو خداضائع نہیں کرے گا پھر خدا تعالیٰ نے جب آپ پر اَمر نبوت کو واضح طو رپر کھول دیا تو آپ نے تبلیغ اور اشاعت میں کوئی دقیقہ نہ چھوڑا۔مومن اس مقام کو جہاں ہوتا ہے نہیں چھوڑتا جب تک خدا نہ چھڑائے۔مولانا مولوی عبدالکریم صاحب نے ضمناً عرض کیا کہ تعجب کی بات ہے ایک قوم اور بھی تو ہے جس نے خدا کے اس راستباز اورصادق مسیح موعود کو تسلیم کیا ہے اور وہ اس پر ایمان لائی ہے اس کے سامنے کیا یہ باتیں نہیں ہیں؟ ہیں مگر ان کو ان پر کوئی اعتراض نہیں معلوم ہوتا بلکہ ایمان بڑھتا اور اس کی سچائی پر ایک عرفانی رنگ کی دلیل پیدا ہوتی ہے حضرت اقدس نے سن کر فرمایا۔بے شک یہ تو سچائی کی دلیل ہے نہ اعتراض۔کیونکہ ماننا پڑے گا کہ تصنّع سے یہ دعویٰ نہیںکیا گیا بلکہ خدا کے حکم اور وحی سے کیا گیا کیونکہ حضرت عیسیٰ کی آمد کے واقعات کو ہی تو اس میں بیان نہیں کیا بلکہ میرا نام عیسیٰ رکھا اور لکھا کہ لِيُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّيْنِ كُلِّهٖ(الصّف:۱۰) میرے حق میں ہے اور