ملفوظات (جلد 3) — Page 317
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۱۷ جلد سوم بر طارم اعلیٰ نشینیم دعو گہے بر پشت پائے خود نه بینیم اگر درویش بر یک حال ماندی سر دست از دو عالم بر فشاندی یہ سچی بات ہے اور ہمیں اس کا اعتراف ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کے دکھائے بغیر نہیں دیکھتے اور اس کے سنائے بغیر نہیں سنتے اور اس کے سمجھائے بغیر نہیں سمجھتے۔ اس اعتراف میں ہمارا فخر ہے ہم نے کبھی ہیں کیا کہ ہم عالم الغیب ہیں ۔ ہم نے انہیں خیالات کے مسلمانوں میں نشو نما پایا تھا ایہ مہدی ومسیح کے متعلق ہمارا علم تھا۔ مگر جب خدا تعالیٰ نے اصل راز ہم پر کھولا اور حقیقت بتادی تو ہم نے اس کو چھوڑ دیا اور نہ خود چھوڑا بلکہ دوسروں کو بھی اس کی طرف اسی کے حکم سے دعوت دی اور اس کو چھڑایا۔ اور تعجب کی بات یہ ہے کہ جس امر کو نادان اعتراض کے رنگ میں پیش کرتا ہے اسی میں ہمارا فائدہ اور ہماری تائید ہوتی ہے دیکھو! براہین میں ایک طرف مجھے مسیح موعود ٹھہرایا ہے اور وہ تمام وعدے جو آنے والے مسیح موعود کے حق میں ہیں میرے ساتھ کئے اور دوسری طرف ہم اپنے اسی قلم سے مسیح کے دوبارہ آنے کا اقرار کرتے ہیں اب ایک دانش مند اور خدا ترس مسلمان اس معاملہ میں غور کرے اور دیکھے کہ اگر یہ دعوی ہمارا افترا ہوتا اور ہم نے از خود بنا یا ہوتا یا منصوبہ بازی ہوتی تو اس قسم کا اقرار ہم اس میں کیوں کرتے ؟ یہ سادگی صاف بتاتی ہے کہ جو کچھ خدا تعالیٰ نے ہم کو علم دیا اسے ہم نے ظاہر کیا۔ بظاہر یہ کارروائی متناقض ہے مگر ایک سعید الفطرت انسان کے لئے ایک روشن تر دلیل ہے۔ کیونکہ جب تک خدا تعالیٰ نے ہم پر نہیں کھولا باوجود یکہ ہمارے ساتھ وہی وعدے جو مسیح موعود کے الی ہم پر ساتھ تھے کیے جاتے اور اسی براہین میں میرا نام مسیح رکھا جاتا ہے اور هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ الآية الہام ہوتا ہے مگر اسی قلم سے میں لکھتا ہوں کہ مسیح موعود دوبارہ آئے گا ہم نے قِيَامُ فِي مَا أَقَامَ اللہ کو نہیں چھوڑا جب تک کہ آفتاب کی طرح کھل نہیں گیا۔ یہی اعتراض ہماری سچائی کا گواہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب پہلے پہل وحی آئی تو آپ نے یہی فرما یا خَشِيتُ عَلی نَفْسِی ۔