ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 316 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 316

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۱۶ جلد سوم جب تک خدا کی طرف سے صریح حکم نہ آجاتا۔ اس لئے ہمارا بھی یہی خیال تھا۔ مخالفوں کی بے ایمانی ہے کہ ایک خیال کو الہام یا وحی بتا کر پیش کرتے ہیں۔ براہین میں یہ بات عامیانہ اعتقاد کے رنگ میں ہے نہ یہ کہ اس کی نسبت وحی کا دعویٰ کیا گیا ہو۔ مگر جب خدا تعالیٰ نے ہم پر بذریعہ وحی اس راز کو کھول دیا اور ہم کو سمجھا یا اور یہ وحی تو اتر تک پہنچ گئی تو ہم نے اس کو شائع کر دیا۔ انبیاء علیہم السلام کی بھی یہی حالت ہوتی ہے جب خدا تعالیٰ کسی امر پر اطلاع دیتا ہے تو وہ اس سے ہٹ جاتے ہیں یا اختیار کرتے ہیں۔ دیکھو! ایک عائشہ رضی اللہ عنہا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اوّل کوئی اطلاع نہ ہوئی۔ یہاں تک نوبت پہنچی کہ حضرت عائشہ اپنے والد کے گھر چلی گئیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی کہا کہ اگر ارتکاب کیا ہے تو توبہ کرلے۔ ان واقعات کو دیکھ کر صاف معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو کس قدر اضطراب تھا مگر یہ راز ایک وقت تک آپ پر نہ کھلا لیکن جب خدا تعالیٰ نے اپنی وحی سے تبر یہ کیا اور فرمایا البيت لِلْخَبِيثِينَ وَالْخَبِيثُونَ لِلْخَبِيثَتِ وَالطَّيِّبْتُ لِلطَّيِّبِينَ وَالطَّيِّبُونَ لِلطَّيِّبت ( النور : ۲۷) تو آپ کو اس افک کی حقیقت معلوم ہوئی اس سے کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کوئی فرق آتا ہے؟ ہرگز نہیں وہ شخص ظالم اور نا خدا ترس ہے جو اس قسم کا وہم بھی کرے اور یہ کفر تک پہنچتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور انبیاء علیہم السلام نے کبھی دعوی نہیں کیا کہ وہ عالم الغیب ہیں ۔ عالم الغیب ہونا خدا کی شان ہے۔ یہ لوگ سنت انبیاء علیہم السلام سے اگر واقف اور آگاہ ہوں تو اس قسم کے اعتراض ہرگز نہ کریں۔ افسوس ہے ان کو گلستان بھی یاد نہیں جہاں حضرت یعقوب کی حکایت لکھی ہے۔ یکی پرسید زاں گم کرده فرزند کہ اے روشن گهر پیر خردمند ز مصرش بوئے پیراہن شمیدی چرا در چاه کنعانش نه دیدی بگفت احوال ما برق جہاں است دیگر دم نہاں است دے پیدا و