ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 315 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 315

دابۃالارض اور طاعون میں تعلق عرض کیا گیا کہ دَآبَّةُ الْاَرْضِاور رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ میں کیا تعلق ہے؟ فرمایا۔اَمر تو آسمانی ہی ہوتے ہیں یعنی اس طاعون کا اَمر آسمان سے آتا ہے اور وہ انسانی ہاتھوں سے بالاتر اَمر ہوتاہے اور اس کامعالجہ بھی آسمان ہی سے آتا ہے۔دابۃ الارض طاعون کو کہتے ہیں اس لئے کہ اس کے کیڑے تو زمینی ہی ہوتے ہیں۔طاعونی موت شہادت ہوتی ہے عرض کیا گیا کہ طاعون سے مَرنا شہادت بتاتے ہیں تو پھر عذاب کیوں کر ہوا؟ جو لوگ طاعون سے مَرنا شہادت بتاتے ہیں ان کو معلوم نہیں کہ طاعونی موت تو عذا بِ الٰہی ہی ہے لیکن یہ جو کسی حدیث میں آیا ہے کہ اگر مومن ہو کر طاعون سے مَرجاوے تو شہادت ہے۔تو یہ اﷲ تعالیٰ نے گویا مومن کی پردہ پوشی کی ہے۔کثرت سے اگر مَرنے لگیں تو شہادت نہ رہے گی پھر عذاب ہو جائے گا۔شہادت کا حکم شاذ کے اندر ہے کثرت ہمیشہ کافروں پر ہوتی ہے۔اگر یہ ایسی ہی شہادت اور برکت والی چیز تھی تو اس کا نام رِجْزٌ مِّنَ السَّمَآءِ نہ رکھا جاتا اور پھر کثرت سے مومن مَرتے اور انبیاء مبتلا ہوتے مگر کیا کوئی کسی نبی کا نام لے سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔پس یاد رکھو کہ اگر کوئی شاذ مومن اس سے مَرجاوے تو اﷲ تعالیٰ اپنی ستاری سے اس کی پردہ پوشی فرماتا ہے اور اس کے لئے کہا گیا کہ وہ شہادت کی موت مَرتا ہے ماسوا اس کے میں نے بارہا کہا ہے کہ اگر کوئی حدیث قرآن شریف کے متعارض ہو اور اس کی تاویل قرآن کے موافق نہ ہو تو اسے چھوڑ دینا چاہیے حکم ہمیشہ کثرت پر ہوتا ہے شاذ تو معدوم کا حکم رکھتا ہے۔(دربارِ شام ) بعد ادائے نماز مغرب اوّل چند آدمیوں نے بیعت کی۔پھر مفتی محمد صادق صاحب نے ڈوئی کے اخبار سے چند پیراگراف سنائے۔