ملفوظات (جلد 3) — Page 314
کو نابود کر دیں مگر دیکھو انجام کیا ہوا؟ اگر اس اعجاز کامیابی کو جو ہمارے نبی کو حاصل ہوئی ابو جہل اس وقت دیکھے تو اس کو پتہ لگے۔کس قدر فوق العادۃ ترقی مخالفوں کی مخالفت اور شرارت کے مقابلہ میں خدا تعالیٰ نے کر کے دکھائی۔یہی معاملہ یہاں ہے اگر یہ مخالف نہ ہوتے تو ایسی اعجازی ترقی یہاں بھی نہ ہوتی یعنی اس ترقی میں اعجازی رنگ نہ رہتا کیونکہ اعجاز تو مقابلہ اور مخالفت سے ہی چمکتا ہے۔ایک طرف تو ہمارے مخالفوں کی یہ کوششیں ہیں کہ وہ ہم کو نابود کردیں۔ہمارا سلام تک نہیں لیتے اور غائبانہ ذکر بھی نفرت سے کرتے ہیں دوسری طرف اﷲ تعالیٰ حیرت انگیز طریق پر اس جماعت کو بڑھا رہا ہے یہ معجزہ نہیں تو کیا ہے؟ کیا یہ ہمارا فعل ہے یا ہماری جماعت کا؟نہیں یہ خدا تعالیٰ کاایک فعل ہے جس کی تہ اور سِر کو کوئی نہیں جان سکتا۔اب ان کو کس قدر تعجب ہوتا ہو گا کہ چند سال پہلے جس جماعت کو بالکل کمزور اور ذلیل اور ضعیف سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ چند آدمی شامل ہیں اب اس کا شمار ایک لاکھ سے بھی بڑھ گیا ہے اور کوئی دن نہیں جاتا کہ بذریعہ خطوط اور خود حاضر ہو کر لوگ اس سلسلہ میں داخل نہیں ہوتے۔یہ خدا کا کام ہے اور اس کی باتیں عجیب ہوتی ہیں۔۱ ۲۸؍اکتوبر ۱۹۰۲ء (بوقت صبح کی سیر) طاعون حسب معمول آپ حلقہ خدام میں سیر کو نکلے طاعون کا تذکرہ شروع ہوتے ہی فرمایا کہ قرآن شریف میں اس کو رِجْزٌ مِّنَ السَّمَآءِ کہا ہے اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس پر انسانی ہاتھ نہیں پڑسکتا اور نہ زمینی تدابیر اس کامقابلہ کر سکتی ہیں۔ورنہ یہ عذاب آسمانی نہ رہے۔طاعون جو اس کا نام رکھا ہے یہ مبالغہ کا صیغہ ہے جیسے فاروق۔جب طعن اور تکذیب حد سے گذر جاتی ہے تو پھر اس کی پاداش میں طاعون آتی ہے اور پھر صفائی کر کے ہی قہرِ الٰہی بس کرتا ہے۔