ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 311 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 311

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۱۱ جلد سوم الارض سے مراد جو شام کی سرزمین ہے یہ صالحین کا ورثہ ہے اور جواب تک مسلمانوں کے قبضہ میں ہے۔ خدا تعالیٰ نے یر تھا فرما یا يَمْلِكُها نہیں فرمایا ۔ اس سے صاف پایا جاتا ہے کہ وارث اس کے مسلمان ہی رہیں گے اور اگر یہ کسی اور کے قبضہ میں کسی وقت چلی بھی جاوے تو وہ قبضہ اس قسم کا ہوگا جیسے راہن اپنی چیز کا قبضہ مرتہن کو دے دیتا ہے یہ خدا تعالیٰ کی پیشگوئی کی عظمت ہے۔ ارض شام چونکہ انبیاء کی سرزمین ہے اس لئے اللہ تعالیٰ اس کی بے حرمتی نہیں کرنا چاہتا کہ وہ غیروں کی میراث ہو۔ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصُّلِحُونَ (الانبياء : ۱۰۴) فرمایا ، صالحین کے معنے یہ ہیں کہ کم از کم صلاحیت کی بنیاد پر قدم ہو۔ - مومن کی جو تقسیم قرآن شریف میں کی گئی ہے اس کے تین ہی درجے مومنوں کے مدارج اللہ تعالیٰ نے رکھے ہیں ۔ ظالم - مقتصد ۔ سابق بالخیرات ۔ با بالخیرات ۔ یہ ان کے مدارج ہیں ورنہ اسلام کے اندر یہ داخل ہیں ۔ ظالم وہ ہوتا ہے کہ ابھی اس میں بہت غلطیاں اور ہیں۔ کمزوریاں ہیں اور مقتصد وہ ہوتا ہے کہ نفس اور شیطان سے اس کی جنگ ہوتی ہے مگر کبھی یہ غالب آجاتا اور کبھی مغلوب ہوتا ہے کچھ غلطیاں بھی ہوتی ہیں اور صلاحیت بھی ۔ اور سابق بالخیرات وہ ہوتا ہے جو ان دونوں درجوں سے نکل کر مستقل طور پر نیکیاں کرنے میں سبقت لے جاوے اور بالکل صلاحیت ہی ہو۔ نفس اور شیطان کو مغلوب کر چکا ہو ۔ قرآن شریف ان سب کو مسلمان ہی کہتا ہے۔ ہماری جماعت ہی کو دیکھ لو کہ وہ ایک لاکھ سے زیادہ ہے اور یہ سب کی سب ہمارے مخالفوں ہی سے نکل کر بنی ہے اور ہر روز جو بیعت کرتے ہیں یہ ان میں ہی سے آتے ہیں ان میں صلاحیت اور سعادت نہ ہوتی تو یہ کس طرح نکل کر آتے ۔ بہت سے خطوط اس قسم کی بیعت کرنے والوں کے آئے ہیں کہ پہلے میں گالیاں دیا کرتا تھا مگر اب تو بہ کرتا ہوں مجھے معاف کیا جاوے۔ غرض صلاحیت کی بنیاد پر قدم ہو تو وہ صالحین میں داخل سمجھا جاتا ہے۔