ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 310 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 310

فرمایا۔رَفَعْنٰهُ مَكَانًا عَلِيًّا (مریم : ۵۸)میں ان کو ماننا پڑا ہے کہ ادریس مَر گیا۔صدیق حسن خان نے لکھا ہے کہ اگر حضرت ادریس کو ایسا مانیں تو پھر ان کے بھی واپس آنے کا عقیدہ رکھنا پڑتا ہے جو صحیح نہیں۔تعجب ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑکے لئے توفّی موجود ہے۔پھر بھی اس کی موت سے انکار کرتے ہیں۔بخاری بڑا ہی مبارک آدمی تھا اس نے صاف لکھ دیا مُتَوَفِّیْکَ مُــمِیْتُکَ۔اسی کے ضمن میں فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ (المآئدۃ:۱۱۸)کی تفسیر جو آپ نے بارہا کی اور ہم نے شائع کی بیان فرمائی۔۱ ۲۷؍اکتوبر ۱۹۰۲ء ( بوقتِ صبح کی سیر) یروشلم اور بیت المقدس سے مُراد اس تذکرہ پر کہ عیسائیوں اور یہودیوں میں پھر اس اَمر کی تحریک ہو رہی ہے کہ ارضِ مقدس کو ترکوں سے خرید کر لیا جاوے۔مختلف باتوں کے دوران میں فرمایا۔یروشلم سے مُراد در اصل دارالامان ہے۔یروشلم کے معنی ہیں وہ سلامتی کو دیکھتا ہے یہ سنت اﷲ ہے کہ وہ پیشگوئیوں میں اصل الفاظ استعمال کرتا ہے اور اس سے مُراد اس کامفہوم اور مطلب ہوتا ہے۔اسی طرح پر بیت المقدس یعنی مسجد اقصیٰ ہے ہماری اس مسجد کا نام بھی اﷲ تعالیٰ نے مسجد اقصیٰ رکھا ہے کیونکہ اقصیٰ یا باعتبار بُعد زمانہ کے ہوتاہے اور یا بُعد مکان کے لحاظ سے۔اور اس الہام میں اَلْمَسْجِدُالْاَقْصَی الَّذِیْ بَارَکْنَا حَوْلَہٗ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تاثیراتِ زمانی کو لیا ہے اور اس کی تائید وَ اٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ (الـجمعۃ : ۴) سے بھی ہوتی ہے اور بَارَکْنَا حَوْلَہٗ کا اس زمانہ کی برکات سے ثبوت ملتا ہے جیسے ریل اور جہازوں کے ذریعہ سفروں کی آسانی اور تار اور ڈاک خانہ کے ذریعہ سلسلہ رسل ورسائل کی سہولت اور ہر قسم کے آرام و آسائش قسم قسم کی کلوں کے اجراء سے ہوتے جاتے ہیں اور سلطنت بھی ایک امن کی سلطنت ہے۔