ملفوظات (جلد 3) — Page 310
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۱۰ ۲۷ اکتوبر ۱۹۰۲ء (بوقت صبح کی سیر ) جلد سوم اس تذکرہ پر کہ عیسائیوں اور یہودیوں میں پھر اس امر یروشلم اور بیت المقدس سے مراد کی تحریک ہورہی ہے کہ ارض مقدس کوترکوں سے خرید کر لیا جاوے۔ مختلف باتوں کے دوران میں فرمایا۔ یروشلم سے مراد دراصل دارالامان ہے۔ یروشلم کے معنی ہیں وہ سلامتی کو دیکھتا ہے یہ سنت اللہ ہے کہ وہ پیشگوئیوں میں اصل الفاظ استعمال کرتا ہے اور اس سے مراد اس کا مفہوم اور مطلب ہوتا ہے۔ اسی طرح پر بیت المقدس یعنی مسجد اقصیٰ ہے ہماری اس مسجد کا نام بھی اللہ تعالیٰ نے مسجد اقصیٰ رکھا ہے کیونکہ اقصیٰ یا با عتبار بعد زمانہ کے ہوتا ہے اور یا بعد مکان کے لحاظ سے۔ اور اس الہام میں الْمَسْجِدُ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تاثیرات زمانی کو لیا ہے اور اس کی تائید وَ آخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ ( الجمعة : (۴) سے بھی ہوتی ہے اور بَارَ كُنَا حَوْلَهُ کا اس زمانہ کی برکات سے ثبوت ملتا ہے جیسے ریل اور جہازوں کے ذریعہ سفروں کی آسانی اور تار اور ڈاک خانہ کے ذریعہ سلسلہ رسل و رسائل کی سہولت اور ہر قسم کے آرام و آسائش قسم قسم کی کلوں کے اجراء سے ہوتے جاتے ہیں اور سلطنت بھی ایک امن کی سلطنت ہے۔ بنی اسرائیل خدا تعالیٰ کا دیا ہوا لقب ہے اسرائیل کے معنے ہیں جو خدا سے بنی اسرائیل بے وفائی نہیں کرتے اس کی اطاعت اور محبت کے رشتہ میں منسلک قوم حقیقی اور اصلی طور پر اسلام کے یہی معنی ہیں بہت سی پیشگوئیوں میں جو اسرائیل کا نام رکھا ہے۔ یہ قلت فہم کی وجہ سے لوگوں کو سمجھ نہیں آئی ہیں ۔ اسرائیل سے مراد اسلام ہی ہے اور وہ پیشگوئیاں اسلام کے حق میں ہیں ۔ فرمایا۔ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّلِحُونَ اس آیت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ