ملفوظات (جلد 3) — Page 309
مسیحؑکو صلیب پر لٹکائے جانے کے دلائل سوال کیا گیا کہ مسیح کو صلیب پر چڑھانا قرآن میں کہاں سے ثابت ہوتا ہے؟ فرمایا۔وَ لٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ ( النِّسآء: ۱۵۸) سے۔یہ واقعہ عیسائیوں اور یہودیوں کے متواترات سے ہے قرآن شریف اس کا انکار کیوں کرنے لگا تھا۔قرآن یا حدیث صحیح میں کہیں ذکر نہیں ہے کہ مسیح چھت پھاڑ کر آسمان پر چلا گیا۔یہ صرف خیالی اَمر ہے کیونکہ اگر مسیح صلیب پر چڑھایا نہیں گیا اور وہ کوئی اور شخص تھا تو دو صورتوں سے خالی نہیں یا دوست ہوگا یادشمن۔پہلی صورت میں مسیح نے اپنے ہاتھ سے ایک دوست کو ملعون بنایا جس لعنت سے خود بچنا چاہتا تھا اس کا نشانہ دوست کو بنایا۔یہ کون شریف پسند کر سکتا ہے۔پس وہ حواری تو ہو نہیں سکتا۔اگر دشمن تھا تو چاہیے تھا کہ وہ دہائی دیتا اور شور مچاتا کہ میں تو فلاں شخص ہوں مجھے کیوں صلیب دیتے ہو۔میری بیوی اور رشتہ داروں کو بلائو میرے فلاں اسرار ان کے ساتھ ہیں تم دریافت کر لو۔غرض اس تواتر کا انکار فضول ہے اور قرآن شریف نے ہرگز اس کا انکار نہیں کیا۔ہاں یہ سچ ہے کہ قرآن شریف نے تکمیل صلیب کی نفی کی ہے جو لعنت کاموجب ہوتی تھی۔نفس صلیب پر چڑھائے جانے کی نفی نہیں کی اس لئے مَا قَتَلُوْهُ کہا اگر یہ مطلب نہ تھا تو پھر مَا قَتَلُوْهُ کہنا فضول ہو جائے گا۔یہ ان کے تواترات میں کہاں تھا؟ یہ اس لئے فرمایا کہ صلیب کے ذریعہ قتل نہیں کیا پھر مَاصَلَبُوْهُ سے اور صراحت کی اور لٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ سے اور واضح کر دیا کہ وہ زندہ ہی تھا یہودیوں نے مُردہ سمجھ لیا۔اگر آسمان پر اٹھایا جاتا تو خدا تعالیٰ کی قدرت پر ہنسی ہوتی کہ اصل مقصود تو بچانا تھا یہ کیا تماشا کیا کہ دوسرے آسمان سے پہلے بچاہی نہ سکا۔چاہیے تھا کہ ایک یہودی کو ساتھ لے جاتے اورآسمان سے گرادیتے تا کہ ان کو معلوم ہو جاتا۔