ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 308 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 308

یہی الفاظ ہیں اور یہی خدا کی طرف سے نازل ہوا۔قراءت کا اختلاف الگ اَمر ہے۔مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّ لَا نَبِيٍّ (الـحج : ۵۳) میں لَا مُـحَدَّثٍ قراءتِ شاذہ ہے اور یہ قراءت صحیح حدیث کا حکم رکھتی ہے جس طرح نبی اور رسول کی وحی محفوظ ہوتی ہے اسی طرح محدّث کی وحی بھی محفوظ ہوتی ہے جیسا کہ اس آیت سے پایا جاتا ہے۔جبرائیل علیہ السلام کا نزول پوچھا گیا جبرائیل کا نزول قلب پر ہوتا تھا یا آواز آتی تھی؟ فرمایا۔اس میں بحث کی کچھ ضرورت نہیں جبرائیل کا تعلق قلب ہی سے ہوتا ہے اور قرآن شریف میں یہ لفظ آیا بھی ہے مگر یہ عالم الگ ہی ہوتا ہے قرآن شریف جو تمام کتابوں اور علوم کا خاتمہ کرتا ہے اس لئے وہ بڑی اقویٰ وحی ہے اور شدت کے ساتھ اس کا نزول تھا۔اسلام فطرتی مذہب ہے ایک شخص نے اپنی رؤیا سنائی جس میں یہ آیت تھی فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا (الرّوم : ۳۱) فرمایا۔اس کے معنی یہی ہیں کہ اسلام فطرتی مذہب ہے انسان کی بناوٹ جس مذہب کو چاہتی ہے وہ اسلام ہے اس کے یہ معنی ہیں کہ اسلام میں بناوٹ نہیں ہے۔اس کے تمام اصول فطرتِ انسانی کے موافق ہیں۔تثلیث اور کفارہ کی طرح نہیں ہیں جو سمجھ میں نہیں آسکتے۔عیسائیوں نے خود مانا ہے کہ جہاں تثلیث نہیں گئی وہاں توحید کامطالبہ ہوگا۔کیونکہ فطرت کے موافق توحید ہی ہے اگر قرآن شریف نہ بھی ہوتا تب بھی انسانی فطرت توحید ہی کو مانتی۔کیونکہ وہ باطنی شریعت کے موافق ہے ایسا ہی اسلام کی کل تعلیم باطنی شریعت کے موافق ہے برخلاف عیسائیوں کی تعلیم کے جو مخالف ہے۔دیکھو! حال ہی میں امریکہ میں طلاق کا قانون خلافِ انجیل پاس کرنا پڑا۔یہ دقّت کیوں پیش آئی اس لئے کہ انجیل کی تعلیم فطرت کے موافق نہ تھی۔