ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 307 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 307

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کیا لوگ قصائد نہ کہتے تھے؟ کہتے تھے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کلام فصیح وبلیغ پیش کیا تو وہ جوڑ توڑ کا نتیجہ نہ تھا بلکہ وحی سے تھا۔اس لئے معجزہ تھا کہ درمیان اسباب عادیہ نہ تھے۔آپ نے کوئی تعلیم نہ پائی تھی اور بدوں کوشش کے وہ کلام آپ نے پیش کیا۔غرض اسی طرح پر لوہا نرم کرنے کامعجزہ ہے کہ اس میں اسباب عادیہ نہ تھے۔اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس کے اور معنی بھی ہوں۔مشکلات صعب سے بھی مُراد لوہا ہوتا ہے۔وہ حضرت سلیمان پر آسان ہوگئیں۔مگر اصل اعجاز کا کسی حال میں ہم انکار نہیں کرتے ورنہ اگر خدا تعالیٰ کی ان قدرتوں پر ایمان نہ ہو تو پھر خدا کو کیا مانا؟ ہم اس کو خارقِ عادت نہیں مان سکتے جو قرآن شریف کے بیان کردہ قانونِ قدرت کے خلاف ہو۔مثلاً ہم احیاءِ موتٰی حقیقی کا کیوں انکار کرتے ہیں؟ اس لئے کہ قرآن شریف نے یہ فیصلہ کر دیا ہے فَيُمْسِكُ الَّتِيْ قَضٰى عَلَيْهَا الْمَوْتَ (الزّمر : ۴۳) اسی طرح ہم نہیں مان سکتے کہ خدااپنے جیساکوئی اور خدا بھی بنالیتا ہے کیونکہ یہ اس کی توحید کے خلاف ہے یا یہ کہ وہ خود کشی نہیں کر سکتا کیونکہ اس کی صفت حیّ و قیّوم کے خلاف ہے اسی طرح اگر کوئی کہے کہ دنیا ہمیشہ رہے گی اور یہاں ہی دوزخ بہشت ہوگا ہم نہیں مان سکتے۔اس کی صفت مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ (الفاتـحۃ : ۴) کے خلاف ہے اور اس کے خلاف جا ٹھہرتا ہے فَرِيْقٌ فِي الْجَنَّةِ وَ فَرِيْقٌ فِي السَّعِيْرِ (الشّورٰی : ۸) ایسا ہی ہم نہیں مان سکتے کہ کوئی اس جسم کے ساتھ آسمان پر بھی چڑھ سکتا ہے کیونکہ جب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار نے کہا کہ تو آسمان پر چڑھ جا آپ نے یہی فرمایا سُبْحَانَ رَبِّيْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا (بنی اسـراءیل : ۹۴) ایسا ہی مُردے اگر واپس آسکتے تو چاہیے تھا کہ قرآن شریف ان کے لئے کوئی خاص قانونِ وراثت بیان کرتا اور فقہ میں کوئی باب اس کے متعلق بھی ہوتا۔غرض جو اُمور قرآن شریف کے بیان کردہ قانون کے خلاف ہیں ہم ان کو تسلیم نہیں کر سکتے۔قرآن کریم کا متن پوچھا گیا کہ قرآن کا جو نزول ہوا ہے وہ یہی الفاظ ہیں یا کس طرح؟ فرمایا۔