ملفوظات (جلد 3) — Page 306
کی شان ہے لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ (الانعام : ۱۰۴) اور پھر یہ لفظ خدا تعالیٰ کی نسبت صحابہ میں بھی نہیں بولا گیا۔فرمایا۔جیسے مسیح پر کفر کا فتویٰ لگا کر ان کو صلیب پر چڑھایا گیا ایسا واقعہ کسی نبی کے ساتھ نہیں ہوا۔گناہ کا کمال کفر پر جاکرہوتا ہے اور مسیح پر یہودیوں نے کفر کا فتویٰ لگایا (ہمارا یہ عقیدہ نہیں ہے) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفوں نے برخلاف اس کے آپ کو الامین اور المامون کہا۔مسیح کے مخالفوں کا ان کی نسبت کفر کا فتویٰ دینا اور آپؐکے مخالفوں کا آپ کو الامین کہنا رُتبہ اور درجہ میں اﷲ تعالیٰ کے نزدیک بڑا فرق بتاتا ہے۔۱ ۲۶؍اکتوبر ۱۹۰۲ء مولوی جمال الدین صاحب ساکن سید والہ نے سوال کیا کہ حضرت زکریا علیہ السلام کی بابت جو آیا ہےکہ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ اِلَّا رَمْزًا ( اٰل عـمران : ۴۲)۔کیا اس سے یہ مُراد ہے کہ وہ کلام نہ کریں گے۔فرمایا۔اس سے یہی معلوم ہوتا ہے۔لَاتَسْتَطِیْعُ نہیں کہا۔معجزہ کی حقیقت سلیمان علیہ السلام کے لئے جو آیا ہے کہ لوہا نرم کر دیا اس سے کیا مُراد ہے؟ فرمایا۔تدابیر مشہودہ سے الگ ہو کر جو فعل ہوتا ہے اس میں اعجازی رنگ ہوتا ہے۔معجزات جن باتوں میں صادر ہوتے ہیں ان میں سے بہت سے افعال ایسے ہوتے ہیں کہ د وسرے لوگ بھی ان میںشریک ہوتے ہیں مگر نبی ان تدابیر اور اسباب سے الگ ہو کر وہی فعل کرتا ہے اس لئے وہ معجزہ ہوتا ہے اور یہی بات یہاں سلیمان کے قصہ میں ہے۔