ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 303 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 303

ملفوظات حضرت مسیح موعود مسیح کے گناہ اٹھانے پر فرمایا کہ جلد سوم اس نے تمام کے گناہ اُٹھا کر پھر گناہ کیا کہ اس کو معلوم تھا کہ دعا قبول نہ ہوگی مگر پھر بھی کرتا ہی رہا۔ اے ۲۳ اکتوبر ۱۹۰۲ء (صبح کی سیر) اس سلسلہ مضمون میں فرمایا کہ قرآن کریم کا مقام مسلمانوں میں قرآن کی عظمت نہیں رہی ۔ شیعہ ہیں وہ آئمہ کے اقوال کو مقدم کرتے ہیں اور دوسرے فریق حدیثوں کے ظنی سلسلہ کو قرآن پر قاضی بناتے ہیں۔ اسی ذکر میں عبداللہ چکڑالوی اور محمد حسین کی بحث کا ذکر آ گیا فرمایا۔ چکڑالوی نے تفریط کی ہے اور حدیث کو بالکل لاشئے سمجھا اور محمد حسین افراط کی طرف گیا ہے کہ حدیث کے بغیر قرآن کو لاٹھے سمجھتا ہے۔ پھر آپ نے واضح اور بین طور پر اس مضمون پر کلام کیا کہ کتاب اللہ، سنت اور حدیث ہمارے نزدیک تین چیزیں ہیں ایک کتاب اللہ دوسرے سنت یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل اور تیسرے حدیث ۔ ہمارے مخالفوں نے دھوکا کھایا ہے کہ سنت اور حدیث کو باہم ملایا ہے ۔ ہمارا مذہب حدیث کے متعلق یہی ہے کہ جب تک وہ قرآن اور سنت کے صریح مخالف اور معارض نہ ہو اس کو چھوڑ نا نہیں چاہیے خواہ وہ محدثین کے نزد یک ضعیف سے ضعیف کیوں نہ ہو جب کہ ہم اپنی زبان میں دعائیں کر لیتے ہیں تو کیوں حدیث میں آئی ہوئی دعا ئیں نہ کریں جب کہ وہ قرآن شریف کے مخالف بھی نہیں ۔ قرآن شریف پر حدیث کو قاضی بنانا سخت غلطی ہے اور قرآن شریف کی بے ادبی ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک بڑھیا نے حدیث پیش کی تو انہوں نے یہی کہا کہ میں ایک بڑھیا کے لئے قرآن نہیں چھوڑ سکتا ۔ ایسا ہی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے کسی نے کہا کہ حدیث میں آیا ہے البدر جلد نمبر ۲ مورخہ ۷ رنومبر ۱۹۰۲ ء صفحہ ۱۴، ۱۵