ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 302 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 302

ایک اہم ارشاد اپنے عقائد کی ایک مختصر فہرست چھاپ دی جاوے کہ عقیدہ کے ہر پہلو کا اس میں بیان ہو معجزات۔فرشتہ۔وحی۔حیات ووفاتِ مسیح وغیرہ تاکہ جب کسی کو اپنے عقائد کے متعلق اطلاع دینی ہو تو جھٹ وہ روانہ کر دی۔میر ناصر نواب صاحب کی تائید پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ مولوی محمد علی صاحب کا ایسی عمدہ انگریزی لکھنا ایک خوارقِ عادت اَمر ہے چنانچہ انگریزوں نے بھی خیال کیا ہے کہ ہم نے کوئی یورپین رکھا ہوا ہے جو کہ انگریزی رسالہ لکھتا ہے۔مولوی محمد علی صاحب نے بیان کیا کہ یہ خدا کا فضل ہی ہے ورنہ اس سلسلہ سے پیشتر میرا ایک حرف تک کبھی شائع نہیں۔(اَللّٰھُمَّ زِدْ فَزِدْ) گناہ کی تعریف مفتی محمد صادق صاحب حسب الارشاد حضرت اقدس ایک عیسائی کتاب سے گناہ کی حقیقت سناتے رہے اس کتاب میں ایک جگہ گناہ کی تعریف یہ لکھی تھی کہ جو اَمر کانشنس یا شریعت کے خلاف ہو وہ گناہ ہے۔حضرت اقدسؑ نے فرمایا۔قرآن شریف میں بھی ہے لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِيْۤ اَصْحٰبِ السَّعِيْرِ(الملک: ۱۱) یعنی اگر ہم شریعت پر چلتے یا کانشنس پر ہی عمل کرتے تو اصحابُ السَّعیر سے نہ ہوتے۔موسیٰ پر الزام مُکّا مارنے کا جو عیسائی لگاتے ہیں اس کی نسبت فرمایا کہ وہ گناہ نہیں تھا ان کا ایک اسرائیلی بھائی نیچے دبا ہوا تھا طبعی جوش سے انہوں نے ایک مُکّا مارا وہ مَر گیا جیسے اپنی جان بچانے کے لئے اگر کوئی خون بھی کر دیوے تو وہ جرم نہیں ہوتا۔موسٰی کا قول قرآن شریف میں ہےمِنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ (القصص : ۱۵) یعنی قبطی نے اس اسرائیلی کو عمل شیطان (فاسد ارادہ )سے دبایا ہوا تھا۔پھر اس کتاب میں خود غرضی کو گناہ کہا تھا حضرت اقدس نے فرمایا کہ ہر ایک خود غرضی گناہ میں داخل نہیں ہے جیسے کھانا پینا وغیرہ جب تک کہ وہ خلافِ کانشنس یا