ملفوظات (جلد 3) — Page 301
یہ تو قرآن ہے جو بتلاتا ہے جو آپس میں موحّدین ہوں گے ان میں بھی تفرقہ ہو گا۔ایک وہ موحّد تھے جنہوں نے کم وقت پایا اور پھر ان کی نسبت قرآن شریف نے کہا ہے قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَلٰكِنْ قُوْلُوْۤا اَسْلَمْنَا (الـحجرات : ۱۵) یعنی ہم نے مقابلہ چھوڑ دیا لیکن ان کے دل میں ابھی ایمان داخل نہیں ہوا انہی کی طرف اشارہ ہے وَ رَاَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُوْنَ فِيْ دِيْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًا (النّصـر : ۳) کجا صحابہ کی شان اور کجا یہ لوگ۔ایک گروہ جان دے چکا خدا نے روح القدس سے اس کی تائید کی۔بعض وقت غیر محل پر ذکر کرنے سے ایک عالِم بھی گھبرا جاتا ہے جیسے اگر کوئی شیعہ کہے کہ کون ہے تو خدا نے بتلا دیا کہ یہ لوگ جو پیچھے آئے تھے اور داخلِ اسلام ہوئے تھے۔اَلدَّار کی توسیع (مغرب و عشاء) مجوّزہ مکان کی تعمیر کے واسطے میر صاحب کو ارشاد فرمایا کہ لکڑی کا بندوبست بہت جلد کرنا چاہیے اور مولوی عبدالکریم صاحب کو تاکید کی کہ احباب کی توجہ چندہ کی طرف مائل کرنی چاہیے اور تاکید کرنی چاہیے کیونکہ یہ کام بِلا چندہ کے نہیں ہو سکتا۔(اس مکان کے جلد تعمیر کرنے کی علّت ِغائی یہ ہے کہ توسیع مکان ہو جاوے گی تو زیادہ احباب اس میں رہ سکیں گے اور خصوصیت کے ساتھ جو الہام اِنِّیْ اُحَافِظُ کُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ ہے وہ تمام اس خاص حفاظت سے حصہ گیر ہو سکیں گے) مولوی محمد علی صاحب نے ایک خط حامد سنو صاحب (ایک نو مسلم انگریز) کا پڑھ کر سنایا۔اس میں راقم نے اس اَمر پر تعجب کیا ہوا تھا کہ میگزین کی انگریزی محمد علی صاحب کی ہوتی ہے اور نیز راقم نے ایک کتاب تصنیف کی تھی اس کے متعلق بیان تھا کہ اگر اجازت ہو تو وہ حضرت اقدس کے نام مبارک پر طبع کی جاوے۔حضرت اقدس نے کہا کہ اوّل وہ کتاب آجاوے دیکھ کر پھر رائے قائم کی جاوے گی۔اور اسی پر حضرت اقدسؑ نے یہ بھی تجویز فرمایا کہ