ملفوظات (جلد 3) — Page 300
صحابہؓ کا مقام اور شیعوں پرحجّت اس طرح آزمائش کرو کہ خدااور رسول کی راہ میں کس نے صدق دکھلایا۔آپس کی رنجشیںخانگی امور ہوتے ہیں ان کا اثر ان پر نہیں پڑ سکتا خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَ نَزَعْنَا مَا فِيْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِيْنَ (الـحجر : ۴۸) یہ ایک پیشگوئی ہے کہ آئندہ زمانہ میں آپس میں رنجشیں ہوں گی لیکن غِل ان کے سینوں میں سے کھینچ لیویں گے وہ بھائی ہوں گے تختوں پر بیٹھنے والے۔اب شیعوںسے پوچھو کہ اس وقت زمانہ نبوی میں تو کوئی رنجش نہ تھی اور اگر ہوتی تو آنحضرتؐاس وقت آپس میں صلح کروا دیتے۔آخر یہ بات آئندہ زمانہ میں ہونے والی تھی ورنہ اس طرح پھر آنحضرتؐپر حرف آتاہے کہ انہوں نے صلح کی کوشش توکی مگر کامیاب نہ ہوئے۔یہ بات شیعہ پر بڑی دلیل ہے وہ صرف دو آدمیوں کا نام لیتے ہیں جو کہ آنحضرتؐکے بعد ہوئے۔ہم کہتے ہیں کہ آیت تو پیغمبر خدا پر اتری تھی نہ علی پر اور نہ کسی اور پر۔اگر کہو کہ اس وقت ہی غِل تھا تو معلوم ہوتا ہے کہ نعوذباﷲ صحابہ ایسے سخت دل تھے کہ آنحضرتؐنے بار بار کہا اور سمجھایا مگر کسی نے آپ کا کہنا نہ مانا۔یہ کیوں کر ہو سکتا ہے یہ تو بڑی بے ادبی ہے۔اس کا پتہ لگتا ہے کہ یہ بعد کی خبر ہے مگر خدا کے سامنے یہ کوئی شَے نہیں اسی لئے فرماتا ہے کہ تم اس پر خیال نہ کرو یہ بشریت کے اختلاف ہیں ہم ان کو بھائی بھائی بنادیویں گے خدا تعالیٰ ہی نے یہ پیشگوئی کی کہ ایسا ہو گا بعض آپس میں لڑیں گے۔پھر سب سے آخر جولوگ اسلام میں داخل ہوئے تھے نیز فرمایا وہ وہی گروہ تھے کہ جنہوں نے آپؐکی صحبت نہ پائی مگر آپؐکو دیکھ لیا۔ایسے لوگ تیسرے طبقہ میں ہیں اور بعض ان میں سے مرتد بھی ہو گئے تھے ان کی نسبت ہے کہ آپؐ (بروزِ قیامت) خدا تعالیٰ کو کہیں گے کہ یہ تو ایمان لائے تھے۔خدا تعالیٰ کہے گا مَا تَدْرِیْ یعنی تجھ کو علم نہیں کیونکہ وہ لوگ آپؐکی صحبت میں بہت قلیل رہے تھے اور وہی تھے جو پیچھے بعض ان میں سے مرتد بھی ہو گئے اور زکوٰۃ نہ دینے کی وجہ سے قتل ہوئے تھے۔اہلِ اسلام خود اس قسم کے مرتد مانتے ہیں جو صحابہ کہلاتے تھے۔مگر