ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 299 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 299

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۹۹ جلد سوم اس نے کہا کہ میرے نزدیک مسیح کا درجہ اس سے ذرہ بھی زیادہ نہیں جو قرآن نے بتلایا ہے۔ حدیث میں بھی اس کی گواہی بخاری میں موجود ہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ وہی کلام ہے جو کہ توریت میں ہے اور اس کی حیثیت نبوت سے بڑھ کر نہیں ہے۔ اسی پر یہ آیت نازل ہوئی کہ اللہ ۔ غُلِبَتِ الرُّومُ - فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ - فِي بِضْعِ سِنِينَ لِلَّهِ الْأَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَ مِنْ بَعْدُ وَ يَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ ( الروم : ۲ تا ۵ ) یعنی روم اب مغلوب ہو گیا ہے مگر تھوڑے عرصہ میں (۹) سال میں ) پھر غالب ہوگا ۔ عیسائی لوگ نہایت شرارت سے کہتے ہیں کہ یہ آنحضرت نے دونوں طاقتوں کا اندازہ کر لیا تھا اور پھر فراست سے یہ پیشگوئی کر دی تھی ۔ ہم کہتے ہیں کہ اسی طرح مسیح بھی بیماروں کو دیکھ کر اندازہ کر مسیح کا سلب کا سلب امراض کا معجزہ لیا کرتا تھا جو اچھے ہونے کے قابل نظر آتے تھے ان کا سلب امراض کر دیتا ۔ اس طرح تو سارے معجزات ان کے ہاتھ سے جاتے ہیں ۔ دیتا۔ يَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ ۔ اس دن مومنوں کو دو خوشیاں ہوں گی ایک تو جنگ بدر کی فتح دوسرے روم والی پیشگوئی کے پورا ہونے کی ۔ منتر جنتر بھی سلب امراض ہی ہے مگر بڑا خبیث کام ہے اس لیے اسلام میں اس کی بجائے خدا پر توقع رکھا گیا ہے اور صرف روحانی امراض کے لئے سلب رکھا گیا ہے جیسے قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زلها ( الشمس : ١٠) ۔ حضرت مسیح تو روحانی امراض کا سلب نہ کر سکے اس لیے گالیاں دیئے چلے گئے اور آنحضرت کے سلب امراض کا نمونہ صحابہ ہیں ۔ لے الحکم میں مضمون کا یہ حصہ ڈائری نویس نے تفصیل سے یوں لکھا ہے۔ رض سلب امراض سے جن لوگوں کو مسیح نے عیسائیوں کے قول کے موافق زندہ کیا وہ آخر مر گئے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَنهَا کے نیچے لا کر جن کو زندہ کیا وہ ابدالآباد تک زندہ رہے صحابہ کا مقابلہ حواریوں یوں سے ہو ہی نہیں سکتا۔ ساری انجیل میں ایک بھی فقرہ ایسا نہیں جو صحابہ کی اس حالت کا جو قرآن نے بیان کی ہے کہ خدا کی راہ میں انہوں نے جان و مال سے دریغ نہ کیا مقابلہ کر سکے ۔ انہوں نے خدا اور اس کے رسول کی راہ میں جو صدق الحکم جلد ۶ نمبر ۴۰ مورخه ۱۰ نومبر ۱۹۰۲ء صفحه ۴) دکھا یا وہ لا نظیر ہے ۔“ 66