ملفوظات (جلد 3) — Page 299
اس نے کہا کہ میرے نزدیک مسیح کادرجہ اس سے ذرہ بھی زیادہ نہیں جو قرآن نے بتلایا ہے۔حدیث میں بھی اس کی گواہی بخاری میں موجود ہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ وہی کلام ہے جو کہ توریت میں ہے اور اس کی حیثیت نبوت سے بڑھ کر نہیں ہے۔اسی پر یہ آیت نازل ہوئی کہ الٓمّٓ۔غُلِبَتِ الرُّوْمُ۔فِيْۤ اَدْنَى الْاَرْضِ وَ هُمْ مِّنْۢ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُوْنَ۔فِيْ بِضْعِ سِنِيْنَ١ؕ۬ لِلّٰهِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَ مِنْۢ بَعْدُ١ؕ وَ يَوْمَىِٕذٍ يَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ( الرّوم :۲تا ۵ ) یعنی روم اب مغلوب ہوگیا ہے مگر تھوڑے عرصہ میں ( ۹ سال میں ) پھر غالب ہوگا۔عیسائی لوگ نہایت شرارت سے کہتے ہیں کہ آنحضرتؐنے دونوں طاقتوں کااندازہ کرلیاتھا اور پھر فراست سے یہ پیشگوئی کردی تھی۔مسیحؑکاسلب ِ امراض کا معجزہ ہم کہتے ہیںکہ اسی طرح مسیح بھی بیماروں کو دیکھ کر اندازہ کر لیا کرتا تھا جو اچھے ہونے کے قابل نظر آتے تھے ان کا سلبِ امراض کر دیتا۔اس طرح توسارے معجزات ان کے ہاتھ سے جاتے ہیں۔يَوْمَىِٕذٍ يَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ۔اس دن مومنوں کو دو خوشیاں ہوں گی ایک تو جنگِ بدر کی فتح دوسرے روم والی پیشگوئی کے پورا ہونے کی۔منتر جنتر بھی سلبِ امراض ہی ہے مگر بڑا خبیث کام ہے اس لیے اسلام میں اس کی بجائے خدا پر توقع رکھا گیا ہے اور صرف روحانی امراض کے لئے سلب رکھا گیا ہے جیسے قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا (الشّمس:۱۰)۔حضرت مسیح تو روحانی امراض کاسلب نہ کر سکے اس لیے گالیاں دئیے چلے گئے اور آنحضرتؐکے سلب ِامراض کا نمونہ صحابہؓ ہیں۔۱