ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 294 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 294

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۹۴ جلد سوم اور یہ اس کی کم فہمی ہے کہ اس نے خود استغفار کا مطلب نہیں سمجھا (اس سے مراد تو ترقی مراتب ہے )۔ پھر ایک اور مسلمان کا مضمون اسی پرچہ میں سے سنایا جس نے لفظ ذنب کے متعلق لکھا ہوا تھا اور حضرت اقدس کے مضمون مندرجہ انگریزی میگزین میں سے اس کا جواب اقتباس شدہ تھا ۔ اس شخص نے اپنے جواب میں انگریزی میگزین کا حوالہ بھی دے دیا تھا۔ اس سے حضرت اقدس بہت خوش ہوئے کیونکہ اس ترتیب سے علاوہ جواب معقول ہونے کے اس سلسلہ کی یہ تائید ہوئی کہ تیرہ چودہ ہزار آدمیوں میں میگزین کا اشتہار ہو گیا جن کے پاس یہ عیسائی پرچہ جاتا ہے۔ یہ پھر عیسائیوں کے بپتسمہ دینے کے وقت جو پانی وغیرہ چھڑ کا جاتا ہے بپتسمہ کا ظاہر اور حقیقت اور بعض ان کے فرقہ اس وقت نئے دیندار کو ایک چھوٹے سے حوض میں دھکا دے دیتے ہیں اس کے ذکر پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ پانی کا لحاظ تو ہر ایک نے رکھا ہے ان لوگوں نے تالاب وغیرہ رکھا ہے اور قرآن نے گریہ و بکا کا پانی رکھا ہے۔ وہ ظاہر پر گئے ہیں اور قرآن شریف حقیقت پر گیا ہے جیسے تَرى أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدمع (المائدة : ۸۴)۔ عیسائی پر چہ اپی فینی میں قرآن کریم پر شریعت کے متعلق حملہ ہوا ہوا تھا عیسائیت اور شریعت اور اس کے مقابل پر انیل کو مبار بتلایا ہوا تھا جس نے شریعت کو لعنت کہا ہے۔ اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ جب ان میں شریعت کوئی نہیں ہے تو اگر ان کو کہا جاوے کہ نجاست کھاؤ تو کھا سکتے ہیں اور ماں کے ساتھ زنا کریں تو کر سکتے ہیں پھر تعجب ہے کہ یہ لوگ کپڑا کیوں پہنتے ہیں۔ کیونکہ ان کو مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ برائے نام گناہ گناہ کرتے ہیں اور اصل میں چاہتے ہیں کہ ہر ایک گناہ کو چالاکی سے ہضم کر لیں جب ہر ایک قسم کی بدکاری کرنے پر وہ تیار ہیں تو پھر گناہ کیا تھے ہے اگر باکرہ ہمشیرہ یا لڑکی کو نکاح میں لاویں تو وہ حرام نہیں ہے اگر کہیں کہ سابقہ کتب میں حرام ہے تو وہ ان کے نزدیک منسوخ ہیں ۔