ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 287 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 287

مسلمانوں میں بھی اعلائے کلمۃ اللہ اور اپنے اعمال کی اصلاح اور تبدیلی کاجوش نہیں ہے باپ دادا سے لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ سن لیا اسی کو کافی سمجھا اعمال کی پروا نہیں۔یہ جو الہام ہو چکا ہے اِنَّہٗ اٰوَی الْقَرْیَۃَ اگر منتشر کرنے کاقانون منسوخ نہ ہوتا تواس مفہوم کو اس الہام میں داخل سمجھا جاسکتا مگر اب جب کہ سب جگہ قانون منسوخ ہوگیا ہے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کامنشا یہی ہے جیساکہ دوسرے الہام لَوْلَا الْاِکْرَامُ لَھَلَکَ الْمُقَامُ سے پایا جاتا ہے۔اس میں ایک شوکت بھی ہے اورچشم نمائی ہے جیسے ایک مجرم کو جج ۳ سال کی سزا دے او رساتھ ہی یہ کہہ دے کہ اصل میں ۱۴سال کی قید کی سزا کے لائق تھا مگرعدالت رحم کرکے ۳ سال کی سزا دیتی ہے۔اسی طرح پر یہ الہام ظاہر کرتا ہے کہ دراصل یہ جگہ بھی ایسی ہی تھی کہ ہلاک کی جاتی مگر خدا تعالیٰ اپنے اس سلسلہ کااکرام ظاہر کرناچاہتا ہے کہ اسی اکرام کی وجہ سے اسے ہلاکت سے بچالیا اوراس طرح پر یہ نشان ٹھہرا۔جماعت کو نصیحت میری نصیحت اس وقت جماعت کو یہ ہے کہ یہ دن بڑے سخت اور ہولناک ہیںاس لئے جہاں تک ہوسکے اپنے دلوںکو اور آنکھوںکو بُرے جذبات سے روکے اور اپنے اعمال اور چال چلن میں خاص تبدیلی کریں۔یہ وقت خاص تبدیلی کا ہے اور خدا تعالیٰ سے دعائیں مانگنے کا ہے پس اس وقت خدا سے سچا تعلق پیدا کرو۔میں نے سنا ہے کہ ایک شخص عین شادی کے دن طاعون سے مَر گیا۔دنیا کی بے ثباتی کے لئے یہ کیسی عبرت بخش مثال ہے اگر دانش مند غور کرے تو ایک طرح سے یہ دن بڑے عجیب ہیں ان پر نظر کرنے سے موت یاد آتی ہے اور خدا تعالیٰ کی ہستی پر یقین پیدا ہوتاہے او ریقین ہی ایک ایسی شَے ہے جو اعلیٰ درجہ کی لذّت اور سرور صادق الیقین کو بخشتا ہے وہ کسی اور کو میسر نہیںآسکتے۔خداشناسی کے مسئلہ پر اس وقت ہزاروں قسم کے حجاب اور گرد و غبار ہیں۔اور وہ یقین جو لذّت بخش نتائج اپنے ساتھ رکھتا ہے وہ نہیں رہا اور جو دنیا کے تعلقات میں پیدا ہونے والے رنج اور غم کو دور کرتا ہے اس وقت نہیں بلکہ یہ حالت ہو رہی ہے کہ اکسیر مل جاوے تو