ملفوظات (جلد 3) — Page 282
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۸۲ جلد سوم فرمایا ہے۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ کلمہ تو میرے الہام میں میرا نام بھی رکھا گیا ہے۔ تم اس کے معنے بتلاؤ پھر ہم اس کے بتلائیں گے اگر کہو کہ یہ الہام سچا نہیں تو آؤ اول اس کا فیصلہ کر لیں ۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَ كَلِمَتِهِ (الاعراف : ۱۵۹) مَا نَفِدَتْ كَلِمَتُ اللهِ (لقمان : ۲۸) تو معلوم ہوا کہ قضاء و قدر کا نام بھی کلمہ ہے۔ روح کی دو قسمیں ہوتی ہیں۔ روح الشیطان اور روح اللہ پہلا لفظ ولد الزنا اور دوسرا اصیل پر بولا جاتا ہے۔ دوسرا سوال اس مضمون کا تھا کہ قرآن قرآن کریم کے مصدق ہونے کی حقیقت جو انجیلوں کا مصدق ہے توکیا ان جیل صحیح ہے اناجیل ہیں؟ فرمایا کہ مصدق کے معنے قرآنی طور پر یہ ہیں کہ جو کچھ صحیح تھا اس کی تو نقل کر دی اور جو نہیں لیا وہ غلط تھا پھر انجیلوں کا آپس میں اختلاف ہے اگر قرآن نے تصدیق کی ہے تو بتلاؤ کونسی انجیل کی کی ہے قرآن نے یوحنا ہمتی وغیرہ کی انجیل کی کہیں تصدیق نہیں کی ۔ ہاں پطرس کی دعا کی تصدیق کی ہے۔ اسی طرح کونسی توریت کہیں جس کی تصدیق قرآن نے کی۔ پہلے تو ریت تو ایک بناؤ ، قرآن تو تمہاری تو ریت کو محرف بتلاتا ہے اور تم میں خود اختلاف ہے کہ توریت مختلف ہیں۔ تیسرا سوال۔ قرآن نے خود رسول اللہ کو کہا إِن كُنتَ في قرآن کریم کا خطاب عمالة (پنس: ۹۵ ) ۔ فرمایا۔ اول یہ بتلاؤ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو حکم دیا کہ ماں باپ کی عزت کرو ان کے والدین کہاں تھے ہاں یہ شک کا لفظ اول مسیح پر وارد ہو سکتا ہے کیونکہ اگر وہ قربان اور فدیہ ہونے کے واسطے ہی آیا تھا اور یہ قطعی فیصلہ تھا تو اس نے کیوں کہا کہ اے خدا یہ پیالہ مجھ سے ٹال دے۔ معلوم ہوا کہ اسے ضرور شک تھا قرآن میں جہاں شک کا لفظ ہے ہر ایک مخاطب کی طرف ہے نہ کہ خاص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف۔ خدا نے ہم انے ہمیں قاعدہ بتلایا ہے کہ جو بات قرآن کے مطابق ہو اس