ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 272 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 272

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۷۲ جلد سوم کہ جس سے جماعت کی تبدیلی ہوتی ہے کہ ایک طرف تو طاعون کو دیکھ کر اور دوسری طرف ہماری تعلیم کو دیکھ کر وہ خدا کی تجلیات کو نظر میں رکھیں گے۔ عظیم الشان معاملہ آ کر پڑا ہے گورنمنٹ نے ہر ایک فرقہ کو لپیٹ لیا ہے۔ مولوی محمد احسن صاحب نے کہا کہ حضور یہ لوگ پہلے اعتراض کرتے تھے کہ ہم گورنمنٹ کی خوشامد کرتے ہیں مگر اب کیا کہیں گے کیا یہ کارروائی ٹیکہ کی خوشامد سے ہے کہ جس سے ہم نے اتفاق نہیں کیا۔ نواب محمد علی خان صاحب نے کہا کہ ٹیکہ بھی کہاں تک لگے گا۔ اس پر حضرت اقدس نے ہنس کر فرمایا کہ وہی مثال ہے جس کا ذکر مثنوی میں لکھا ہے کہ ایک شخص کی ماں بدکار تھی اس نے اسے مار ڈالا لوگوں نے کہا کہ ماں کو کیوں مارا؟ اس کے دوستوں کو مارنا تھا اس نے جواب دیا کہ ایک کو مارتا دو کو مار تا آخر کتنوں کو مارتا ؟ اس لئے اسے ہی مارنا مناسب تھا۔ یہی حال ٹیکہ کا ہے۔ میرے نزدیک طاعون کے جتنے عدد ہیں اتنے ہی سال تک اس کا دورہ ہوتا طاعون کا دورہ ہے حدیث میں ہے کہ آخر زمانہ میں لوگ خدا سے لڑائی کریں گے تو اب یہ خدا سے لڑائی ہی ہے لوگ خود کہیں گے کہ خدا سے لڑ رہے ہیں ۔ ہمارا الہام بھی ہے کہ اجهز جيشی یعنی میں اپنا لشکر تیار کر رہا ہوں ہمیں تو یہ خوشی ہے کہ سمجھ دار لوگ خوب خبر دار ہو جاویں گے۔ خدا کی قدرت ہے کہ وہی وقت آگیا ہے اور وہی موسم ہے جس کا ذکر تھا اور اس پر خدا نے گواہی بھی دے دی اب یہ نہ مانیں تو اصل میں یہ خدا کا انکار ہے۔ یہ لوگ ہمارے آگے حدیثیں پیش کرتے ہیں حالانکہ اس نے حکم ہو کر آنا ہے پھر ان کو حکم تو یہ ہے کہ تم کو بولنا نہ چاہیے جو حکم کہے وہ مان لو تقوی ہوتی تو یہ لوگ کبھی نہ بولتے ۔ اگر فی الواقع ہی ان کے ہاتھ میں (بقیہ حاشیہ ( گی اور اس سے تقویٰ اور طہارت میں ترقی ہوگی جو قرب حق کا ذریعہ ٹھہرے گی ہیبت حق کے لئے خود اللہ تعالیٰ نے طاعون ایک ذریعہ اور سامان ٹھہرا دیا ہے بڑا ہی بد قسمت ہے وہ انسان جو اس بلا اور طوفان میں بھی خدا سے نہیں ڈرتا اور اس کی آنکھوں سے آنسو نہیں نکلتے ۔“ الحکم جلد ۶ نمبر ۳۹ مورخه ۳۱ اکتوبر ۱۹۰۲ صفحه ۱۱ )