ملفوظات (جلد 3) — Page 270
ملفوظات حضرت مسیح موعود ٢٧٠ جلد سوم عجیب بات یہ ہے کہ ایک طرف تو کہتے ہیں کہ جب تک طاعونی کیڑے کا کوئی طبیعت میں تعلق نہ ہو تب تک طاعون نہیں ہوتی اور دوسری طرف آپ وہ کیڑے داخل کرتے ہیں اور چیچک کے ساتھ اس کا قیاس مع الفارق ہے چیچک کا مادہ تو شیر مادر کے ساتھ آتا ہے مگر اس میں ظن کیا گیا ہے کہ بہت سی طبائع میں مادہ موجود ہی نہیں ہوتا صرف اس ظن پر ٹیکہ لگایا جاتا ہے کہ کسی طرح وہ مادہ نہ آجاوے۔ مولوی محمد احسن صاحب نے ذکر کیا کہ حضور تَخْرُجُ الصُّدُورُ إِلَى الْقُبُورِ کا آغاز تو ہو گیا ہے کیونکہ ادھر مولوی نذیر حسین دہلوی فوت ہوئے ادھر فتح علی شاہ فوت ہوا۔ حضرت اقدس نے فرمایا۔ ہاں۔ آپ نے خوب سمجھا۔ بعض رؤساء لاہور کے ٹیکہ لگوانے پر جو راضی ہوئے ہیں نجات ایمان کے ساتھ ہے۔ یہ امر ان کی شجاعت پر دلالت نہیں کرتا بلکہ تہور ہے کہ سر کار راضی ہو ہاتھ بٹایا جاوے ابھی تک تو ہماری جماعت کو گورنمنٹ کا مخالف ہی خیال کیا جاوے گا ۔ بڑی ضرورت خدا شناسی کی ہے سب امور خدا کے بعد ہیں جیسے ہم نے ابھی بتلایا کہ نجات ایمان کے ساتھ ہے۔ لے الحکم سے۔ ” جیسا کہ آج کی رؤیا سے معلوم ہوتا ہے در حقیقت نجات ایمان سے ہے اور خدا شناسی کی اس وقت بڑی ضرورت ہے کیونکہ خدا شناسی کے بغیر گناہ کی ناپاک زندگی پر موت وارد نہیں ہوتی اور خدا شناسی کا پہلا زینہ یقین ہے خدا تعالیٰ اور اس کی عجیب در عجیب قدرتوں اور طاقتوں پر سچا ایمان اور یقین ایک معرفت کا نور عطا کرتا ہے اور دل میں اس سے ایک قوت پیدا ہوتی ہے پھر انسان اس قوت کے ساتھ گناہ کا مقابلہ کر سکتا ہے دیکھو! یہ لوگ اپنے ظنوں پر ایک قسم کا یقین رکھتے ہیں ( ٹیکا وغیرہ) تو کیا ہم اپنے یقین پر بھی یقین نہ رکھیں؟ جو کچھ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے وہ بالکل سچ ہے اور وہ ہو کر رہے گا کوئی طاقت اور قوت اس کو روک نہیں سکتی یہ زمانہ عجیب زمانہ ہے واقعات خطرناک پیش آرہے ہیں اور اس وقت کسی کو معلوم نہیں کہ کل کیا ہونے والا ہے ؟ مگر خدا تعالیٰ نے بتادیا ہے کہ وہ اپنے سلسلہ کی حمایت کرے گا اور من في الدار کی حفاظت کا نشان دکھائے گا۔“ الحکم جلد ۶ نمبر ۳۹ مورخه ۳۱ اکتوبر ۱۹۰۲ صفحه ۱۱)