ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 259 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 259

طاعون کے ذکر پر فرمایا کہ حکماء نے لکھا ہے اَلطَّاعُوْنُ ھُوَ الْمَوْتُ جس کے آثار ردّی ظاہر ہوں۔رنگ سیاہ ہو جاوے اور جلد جلد موت ہو تو وہ تو بلائے آسمانی ہوتی ہے۔ورنہ مشابہ بالطاعون گلٹیوں کا ہونا اور بخار کا ہونا طاعون نہیں۔ایک دفعہ ہمارے سب بچوں کو گلٹیاں نکل آئیں صرف اینٹ گرم کر کے سینکتے رہے۔سب کو آرام ہو گیا۔طاعون تو ایک سِرّ مخفی کی طرح ہے۔ورنہ بعض اوقات اس کے عوارض ہو کر پھر انسان کو کچھ نہیں ہوتا۔احمد دین صاحب اپیل نویس نے حضرت اقدس کو خبر سنائی کہ سرکار نے یہ قانون پاس کیا ہے کہ اگر ایک محلّہ میں ایک مریض کو طاعون ہو اور اس محلّہ کے پانچ کس یہ کہیں کہ اسے نکالا جاوے تو اگر پانصد کہیں کہ نہ نکالو تو ان پانچ کی رائے پر عملدرآمد ہوگا۔اور اگر مریض یا اس کے ورثاء اس سے خلاف ورزی کریں تو زیر دفعہ ۱۸۸ وہ مجرم گردانے جاویں گے۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ ایک طرح سے گورنمنٹ نے اپنے سر سے بلا اتار کر رعایا پر ڈال دی ہے۔محلّہ میں اکثر عداوت وغیرہ بھی ہوتی ہے۔خواہ لوگ ایک مبتلائے بخار کو طاعون کہہ کر نکال دیں۔اَلدَّار کی حفاظت فرمایا۔آج میری زبان پر پھر یہ الہام جاری تھا اِنِّیْ اُحَافِظُ کُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ اِلَّا الَّذِیْنَ عَلَوْا مِنِ اسْتِکْبَارٍ۔۱ اِلَّا الَّذِیْنَ عَلَوْا ہمیشہ ساتھ ہی ہوتا ہے۔خدا معلوم اس کے کیا معنے ہیں۔اس لئے بھی کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ متنبہ رہیں تقویٰ پر قائم رہیں۔ایک علو تو اس رنگ میں ہوتا ہے جیسے کہ اَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ (الضُّحٰی : ۱۲) اور ایک علو شیطان کا ہوتا ہے جیسے اَبٰى وَ اسْتَكْبَرَ (البقرۃ : ۳۵) اور اس کے