ملفوظات (جلد 3) — Page 255
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۵۵ جلد سوم قدرتوں اور تصرف پر ایمان نہیں رکھتا اس کا خدا بت ہے۔ اصل میں خدا تو ایک ہی ہے مگر تجلیات الگ ہیں جو اس بات کا پابند ہے اس سے ایسا ہی سلوک ہوتا ہے اور جو متوکل ہے اس سے وہی ۔ اگر خدا ایسا ہی کمزور ہوتا تو پھر نبیوں سے بڑھ کر کوئی نا کام نہ ہوتا کیونکہ وہ اسباب پرست نہ تھے بلکہ خدا پرست اور متوکل تھے۔ ۱۶ اکتوبر ۱۹۰۲ء (در بار شام) بعد ادائے نماز مغرب حضرت اقدس امام همام علیہ الصلوۃ والسلام شہ نشین پر اجلاس فرما ایک رؤیا ہوئے تو آپ نے بیٹھتے ہی اپنی ایک رؤیا سنائی کہ میں نے اپنے والد صاحب کو خواب میں دیکھا ( دراصل ملائکہ کا تمثل تھا مگر آپ کی صورت میں ) آپ کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی چھڑی ہے گویا مجھے مارنے کے لئے ہے۔ میں نے کہا کوئی اپنی اولاد کو بھی مارتا ہے جب میں یہ کہتا ہوں تو ان کی آنکھیں پُر آب ہو جاتی ہیں۔ پھر وہ ایسا ہی کرتے ہیں تو میں یہی کہتا ہوں ۔ آخر دو تین بار جب اسی طرح ہوا پھر میری آنکھ کھل گئی ۔ فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک الہام میں یوں بھی فرمایا ہے أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ أَوْلَادِی ۔ اور یہ قرآن شریف کی ایک آیت کے موافق بھی ہے نَحْنُ ابْنُوا اللَّهِ وَاحِبَّاؤُهُ قُلْ فَلِمَ يُعَذِّبُكُمُ (المائدة: 19) ختم نبوت غیر امتی نبی کے آنے کو مانع ہے تم جو بھی ایک عجب علمی سلسلہ ہے ہے اللہ تعالیٰ ختم نبوت کو بھی قائم رکھتا ہے اور اسی کے استفادہ سے ایک سلسلہ جاری کرتا ہے یہ تو ایک علمی بات ہے مگر کجا یہ کہ اس سلسلہ کوالٹ پلٹ کر دوسرے نبی کولا یا جاوے۔ حالانکہ خدا تعالیٰ کی حکمت اور ارادہ نہیں چاہتا کہ کوئی دوسرا نبی آوے قطع نظر الحکم جلد ۶ نمبر ۳۹ مورخه ۳۱ اکتوبر ۱۹۰۲ صفحه ۴ تا ۶ ے اس میں یہ اشارہ تھا کہ خدا تعالیٰ کی محبت اور حفاظت حضرت مسیح موعود کے ساتھ دائمی اور مثل والد کے اولاد سے ہے ( یہ تشریحی نوٹ ایڈیٹر کا اپنا معلوم ہوتا ہے۔ مرتب )