ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 253 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 253

جاتا رہتا ہے پس اس وقت وہی سعید سعادت کے دامن کے اندر ہے جو اس خطرناک وقت میں ٹھٹھے کرنے والوں کی مجلس میں نہ بیٹھے اورخدا سے تنہائی میں دعائیں کرے اور اس سے ڈرے کہ ایسا نہ ہو رات کو یا دن کے کسی حصہ میں ا س کا عذا ب آجاوے۔قرآن مجید کے ہوتے ہوئے ایک مصلح کی ضرورت پھر اسی نوجوان نے عرض کیا کہ انہوںنے یہ سوال بھی مجھ سے کیاکہ قرآن شریف تو محرّف مبدّل نہیں ہوا کسی کے آنے کی کیا ضرورت ہے؟ فرمایا کہ کیا خدا کی طرف سے کسی کے آنے کی ضرورت کا ایک یہی باعث ہے کہ قرآن شریف محرّف مبدّل ہو؟ اور علاوہ بریں قرآن شریف کی معنوی تحریف تو کی جاتی ہے جبکہ اس میں لکھا ہے کہ مسیح مَر گیا اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ وہ زندہ آسمان پر چڑھ گیا اور تحریف کیا ہوتی ہے؟ یہ لوگ تحریف تو کر رہے ہیں اور پھر مسلمانوں کی عملی حالت بہت ہی خراب ہورہی ہے نیچریوںہی کو دیکھو انہوں نے کیا چھوڑا ہے بہشت دوزخ کے وہ قائل نہیں۔ملائکہ کے وہ قائل نہیں، وحی اور دعا اور معجزات کے وہ منکر ہیں انہوں نے یہودیوںکے بھی کان کاٹے یہاں تک کہ تثلیث میں بھی نجات مان لی۔یہ حالت ہوچکی ہے اور پھر کہتے ہیں کہ کسی آنے والے کی ضرورت نہیں۔تعجب کی بات ہے کہ دنیا توگناہ سے بھر گئی ہے مگر ان کی حالت ایسی مسخ ہوئی ہے کہ وہ محسوس ہی نہیں کرتے کہ کسی مصلح کی بھی ضرورت ہے مگر عنقریب وقت آتا ہے کہ خدا تعالیٰ ان کو معلوم کرائے گااوراس کے غضب کا ہاتھ اب نکلتا آتا ہے۔زمانہ تو ایساتھاکہ رو رو کر راتیں کاٹتے مگر ان کی اس شوخی سے معلوم ہوتا ہے کہ بڑے ہی بدبخت ہیں۔گناہ سے بچنے کاذریعہ گناہ سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ خدا کاخوف دل پر ہو اور جب خدا چاہتا ہے تو اپنا خوف ڈال دیتا ہے۔محبت بھی ایک ذریعہ گناہ سے بچنے کاہے مگر یہ بہت ا علیٰ مقام ہے مگر خوف ایک عام ذریعہ ہے جس سے جوان بھی ڈر جاتا ہے خصوصاً ان دنوں میں بلکہ بعض طبیبوں کا قول ہے کہ جوانوں کو بڈھوں کی نسبت طاعون کازیادہ