ملفوظات (جلد 3) — Page 18
کی رُو سے کوئی نمونہ کامل ہونا ثابت نہیں ہوتا۔بالمقابل ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کامل نمونہ ہیں کہ کیسے روحانی اور جسمانی طور پر انہوں نے عذاب الیم سے چھڑایااورگناہ کی زندگی سے اُن کو نکالا کہ عالَم ہی پلٹ دیا۔ایسا ہی حضرت موسیٰ کی شفاعت سے بھی فائدہ پہنچا۔عیسائی جو مسیح کو مثیلِ موسیٰ قرار دیتے ہیں تو یہ ثابت نہیں کرسکتے کہ موسیٰ کی طرح انہوں نے گناہ سے قوم کو بچایا ہو۔بلکہ ہم دیکھتے ہیں کہ مسیح کے بعد قوم کی حالت بہت ہی بگڑ گئی اور اب بھی اگر کسی کو شک ہو تولنڈن یا یورپ کے دوسرے شہروں میں جا کردیکھ لے کہ آیا گناہ سے چھڑادیا ہے یا پھنسادیا ہے اور یوں کہنے کو تو ایک چوہڑا بھی کہہ سکتا ہے کہ بالمیک نے چھوڑایا مگر یہ نرے دعوے ہی دعوے ہیں جن کے ساتھ کوئی واضح ثبوت نہیں ہے۔پس عیسائیوں کایہ کہنا کہ مسیح چھوڑانے کے لیے آیا تھا۔ایک خیا لی بات ہے جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ ان کے بعد قوم کی حالت بہت بگڑگئی اور روحانیت سے بالکل دور جاپڑی۔ہاں سچا شفیع اور کامل شفیع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جنہوں نے قوم کو بُت پرستی اورہر قسم کے فسق و فجور کی گندگیوں اور ناپاکیوںسے نکال کر اعلیٰ درجہ کی قوم بنادیا اور پھر اس کاثبوت یہ ہے کہ ہر زمانہ میں آپؐکی پاکیزگی اور صداقت کے ثبوت کے لیے اللہ تعالیٰ نمونہ بھیج دیتاہے اس کے بعد استغفار کامسئلہ بھی قابل غور ہے۔عیسائیوں نے اپنی جہالت اور نادانی سے اس پاک اصول پر بھی نکتہ چینی کی ہے حالانکہ یہ انسان کی طبعی منزلوں میں سے ایک منزل ہے۔جاننا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے قرآن شریف نے دو نام پیش کیے ہیں اَلْـحَیُّ اور اَلْقَیُّوْمُ۔اَلْـحَیُّ کے معنے ہیںخود زندہ اور دوسروں کو زندگی عطاکرنے والا۔اَلْقَیُّومُ خود قائم اور دوسروں کے قیام کااصلی باعث۔ہر ایک چیز کا ظاہری باطنی قیام اور زندگی انہیں دونوں صفات کے طفیل سے ہے۔پس حیّ کا لفظ چاہتا ہے کہ اس کی عبادت کی جائے جیسا کہ اس کامظہر سورۃ فاتحہ میں اِيَّاكَ نَعْبُدُ ہے اور اَلْقَیُّوْمُچاہتا ہے کہ اس سے سہار اطلب کیاجاوے اس کو اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ کے لفظ سے ادا کیا گیا ہے۔حیّ کا لفظ عبادت کو اس لیے چاہتا ہے کہ اس نے پیدا کیا اور پھر پید اکر کے چھوڑ نہیں دیا۔جیسے