ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 250 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 250

وقت پر مقدر ہے۔ریلوے مسیح موعود کی نشانی ہے فرمایا۔حقیقت میں یہ ریلوے مسیح موعود کا ایک نشان ہے قرآن شریف میں بھی اس کی طرف اشارہ ہے وَاِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ( التکویر : ۵) فرمایا۔دین داری تو تقویٰ کے ساتھ ہوتی ہے یہ لوگ اگر غور کریں تو صاف معلوم ہوتاہے کہ یُتْـرَکُنَّ الْقِلَاصُ میں ریل کی طرف اشارہ ہے کیونکہ اگر اس سے ریل مُراد نہیںتو پھر ان کا فرض ہے کہ وہ حادثہ بتائیں کہ جس سے اونٹ ترک کیے جاویں گے۔پہلی کتابوں میں بھی اس اَمر کی طرف اشارہ ہے کہ اس وقت آمد و رفت سہل ہوجاوے گی۔اصل تو یہ ہے کہ اس قدر نشانات پورے ہوچکے ہیں کہ یہ لوگ تو اس میدان سے بھاگ ہی گئے ہیں جیسے کسوف خسوف رمضان میں کیا اس طریق پر نہیں ہواجیسا کہ مہدی کی آیا ت کے لیے مقرر تھا؟ اسی طرح پر ابتدائے آفرینش سے ایسی سواری بھی نہیں نکلی ہے۔فرمایا۔علامات دلالت کرتی ہیں کہ مسیح موعود پیداہوگیا ہے اگر یہ لوگ ہم کو نہیں مانتے تو پھر کسی اور کی تلاش کریں او ربتائیں کہ کون ہے کیونکہ جو نشانات اس کے مقرر کئے تھے وہ تو سب کے سب پورے ہوگئے۔ظہورِ مہدی سے متعلق احادیث کامرتبہ محمد حسین اور صدیق حسن نے لکھا ہے کہ مہدی کی حدیثیں مجروح ہیں مہدی اور مسیح گویا ایک شعر کے دو مصرعے ہیں۔جب ایک مصرعہ ٹوٹ گیا توپھر دوسرا وزن پورا کرنے کے لیے کیوں کر صحیح ہو سکتاہے؟ ان کے لیے بڑ ی مشکلات ہیں۔عادتُ اللہ اسی طور پر جاری ہے کہ جب کوئی بات اس کی طرف سے پیداہوتی ہے تو لوگ اس کو تعجب انگیز ہی سمجھتے ہیں۔یہودی اپنے خیال میں انتظار ہی کرتے رہے اور آنے والامسیح اور وہ نبی گذر بھی گئے۔تعجب کی بات ہے کہ ہمارے مخالفوںکے ہاتھ میں مسیح کی وفات کے متعلق کیا ہے جس سے