ملفوظات (جلد 3) — Page 250
ملفوظات حضرت مسیح موعود وقت پر مقدر ہے۔ ریلوے ۲۵۰ فرمایا۔ جلد سوم مسیح موعود کی نشانی ہے حقیقت میں یہ ریلوے مسیح موعود کا ایک نشان ہے قرآن شریف میں بھی اس کی طرف اشارہ ہے وَإِذَا الْعِشَارُ عُطِلَتْ ( التكوير : ۵) فرمایا۔ دین داری تو تقویٰ کے ساتھ ہوتی ہے یہ لوگ اگر غور کریں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ يُتْرَكُنَّ الْقِلَاصُ میں ریل کی طرف اشارہ ہے کیونکہ اگر اس سے ریل مراد نہیں تو پھر ان کا فرض ہے کہ وہ حادثہ بتائیں کہ جس سے اونٹ ترک کیے جاویں گے۔ پہلی کتابوں میں بھی اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ اس وقت آمد ورفت سہل ہو جاوے گی ۔ اصل تو یہ ہے کہ اس قدر نشانات پورے ہو چکے ہیں کہ یہ لوگ تو اس میدان سے بھاگ ہی گئے ہیں جیسے کسوف خسوف رمضان میں کیا اس طریق پر نہیں ہوا جیسا کہ مہدی کی آیات کے لیے مقرر تھا ؟ اسی طرح پر ابتدائے آفرینش سے ایسی سواری بھی نہیں نکلی ہے۔ فرمایا ۔ علامات دلالت کرتی ہیں کہ مسیح موعود پیدا ہو گیا ہے اگر یہ لوگ ہم کو نہیں مانتے تو پھر کسی اور کی تلاش کریں اور بتائیں کہ کون ہے کیونکہ جو نشانات اس کے مقرر کئے تھے وہ تو سب کے سب پورے ہو گئے ۔ محمد حسین اور صدیق حسن نے لکھا ہے کہ ظہور مہدی سے متعلق احادیث کا مرتبہ مہدی کی حدیثیں مجروح ہیں مہدی اور مسیح گویا ایک شعر کے دو مصرعے ہیں ۔ جب ایک مصرعہ ٹوٹ گیا تو پھر دوسر اوزن پورا کرنے کے لیے کیوں کر صحیح ہو سکتا ہے؟ ان کے لیے بڑی مشکلات ہیں ۔ عادت اللہ اسی طور پر جاری ہے کہ جب کوئی بات اس کی طرف سے پیدا ہوتی ہے تو لوگ اس کو تعجب انگیز ہی سمجھتے ہیں۔ یہودی اپنے خیال میں انتظار ہی کرتے رہے اور آنے والا مسیح اور وہ نبی گذر بھی گئے۔ تعجب کی بات ہے کہ ہمارے مخالفوں کے ہاتھ میں مسیح کی وفات کے متعلق کیا ہے جس سے