ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 247 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 247

بھی ہیں۔سونے کا نام بھی دجّال ہے اور شیطان کا بھی۔اصل یہی ہے کہ نصاریٰ کی قوم جو اسلام کی تخریب کے درپے ہے اور طرح طرح کے مشن قائم کر کے اسلام کو نابود کرنا چاہتی ہے اور حق وباطل میں التباس کرتی ہے اور اپنی کتابوں میں تحریف کرتی ہے۔یہی وہ گروہ ہے جس پر دجّال کا اطلاق ہوا ہے۔کیونکہ دجّال تو گروہ کا نام ہے۔اور جو فتور اس نے پیدا کیا ہے۔وہ عام طور پر محسوس ہو چکا ہے۔جو بازار ارتداد کا یہاں گرم ہے وہ مصر اور دوسرے ممالک میں بھی ہو رہا ہے۔تو اب ایک دانش مند سوچے کہ اﷲ تعالیٰ نے جو فرضی دجّال سے بچایا تو اس قریب تر آنے والی آفت کا کوئی سامان نہیں کیا؟ اور اس کا ذکر تک بھی نہ کیا؟ یہ غلط ہے۔خدا نے ذکر کیا اور اس سے بچایا ہے۔ہمارے نزدیک یہی گروہ دجّال ہے۔لغت میں گروہ ہی کے معنے ہیں۔یہی تحریف وتبدیل کرتے ہیں۔قرآن شریف کا اگر ترجمہ کرتے ہیں وہ بھی ایسا۔اسلام کو معدوم کرنا اپنا فرض اور مدّعا رکھتے ہیں۔اور یہ گروہ نرے پادریانہ رنگ میں ہی اسلام پر حملہ آور نہیں بلکہ فلسفیانہ رنگ میں بھی حملہ کرتا ہے اور اپنی ذرّیت کو ایسی طرز پر تعلیم دینا چاہتا ہے کہ اعمال میں سُست ہو جاویں۔ناول ہیں تو اس طریق سے بھی اُن کو اسلام سے دور ہٹانا چاہتا ہے اور فسق وفجور کی زندگی میں مبتلا کرنا چاہتا ہے اور تاریخ ہے تو اس رنگ میں بھی بداعتقادی اور بدظنی پھیلانے کا خواہشمند ہے۔غرض ہر پہلو سے اسلام سے بیزار کرانا چاہتا ہے اور یہ بات بالکل بدیہی ہے۔جو لوگ ان کی پالیسی سے آگاہ ہیں ان کے مکائد اور اغراض کا علم رکھتے ہیں وہ بخوبی جانتے ہیں کہ انہوں نے اسلام کی مخالفت کو انتہا تک پہنچادیا ہے۔شفا خانوں کے اجراء سے بھی یہی غرض ہے۔غرض جو پیرایا اختیار کرتے ہیں اس میں اسلام کی مخالفت اصل مدّعا ہوتا ہے اور ارتداد علّتِ غائی ہوتی ہے۔یہ اس قدر طریق لیے پھرتے ہیں کہ فرضی دجّال کے وہم و خیال میں بھی نہ ہوں گے۔پھر بڑی غور طلب بات یہ ہے کہ قرآن شریف نے ابتدا میں بھی ان کا ہی ذکر کیا جیسے کہ وَ لَا الضَّآلِّيْنَ پر سورہ فاتحہ کو ختم کیا۔اور پھر قرآن شریف کو بھی اسی پر تمام کیا کہ قُلْ هُوَ اللّٰهُ (الاخلاص:۲) سےلے کر قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ (النّاس : ۲) تک غور کرو۔اور وسط قرآن میں بھی ان کا ہی ذکر کیا اور تَكَادُ السَّمٰوٰتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ (مریم : ۹۱) کہا۔بتائو اس دجّال کا بھی کہیں ذکر کیا۔جس کا