ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 246 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 246

بھی کہا ہوتا۔غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ اور وَ لَا الضَّآلِّيْنَ کے متعلق تمام مفسّر متفق ہیں کہ ان سے یہودی اور عیسائی مُراد ہیں۔جب پانچ وقت نمازوں میں ان فتنوں سے بچنے کے لیے دعا کی تعلیم کی گئی ہے کہ الضَّآلِّيْنَ سے نہ کرنا اور نہ مغضوب قوم میں سے بنانا۔تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ سب سے بڑا اور اہم فتنہ یہی تھا جو اُمُّ الفتن کہنا چاہیے۔مسیح موعود کا زمانہ چودھویں صدی ثابت ہوتاہے اور باتوں کو جانے دو۔واقعات بھی تو کچھ چیز ہیں۔متشابہات کی بحث میں نہ پڑو۔مگر یہ تو ماننا ہی پڑے گا کہ پیشگوئیوں کے وہ معنے ہوتے ہیں جو واقعات کی رُو سے صحیح ثابت ہو جائیں۔اب تیرہ سو برس گذر گئے اور محدثین کا اس پر اتفاق ہو گیا ہے کہ کوئی کشف اور الہام چودھویں صدی سے آگے نہیں جاتا۔سب گویا بالاتفاق یہی مانتے ہیں کہ مسیح موعود کا زمانہ چودھویں صدی سے آگے نہیں۔خود عیسائی قوموں میں مسیح موعود کی بعثت کا وقت یہی سمجھا اور مانا جاتا ہے اور ضروریاتِ مشہودہ محسوسہ بھی اسی پر دلالت کرتی ہیں کہ آنے والے کے لیے یہی وقت ہے۔وہ علامات اور نشانات جو مقرر کیے گئے تھے سب اپنے اپنے وقت پر پورے ہو گئے۔یاجوج ماجوج بھی مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ يَّنْسِلُوْنَ ( الانبیآء : ۹۷) کا نظارہ دکھارہے ہیں اور دجّال بھی اپنے دجل اور فریب سے ایک عالَم کو ہلاک کر رہا ہے۔مگر فرضی دجال جو مسلمانوں کے تخیّل میں ہے اس کا ابھی نام و نشان نہیں۔پھر عجیب بات یہ ہے کہ قرآن شریف میں تو لکھا ہوا ہے کہ جَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ(اٰل عـمران : ۵۶) اور اَغْرَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ (المائدۃ : ۱۵) اور وَ اَلْقَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ (المائدۃ : ۶۵) یعنی قیامت تک عیسائیوں کا وجود پایا جاتا ہے۔لیکن یہ کہتے ہیں کہ مسیح موعود آکر عیسائیوں سے لڑائی کرے گا۔میں کہتا ہوں کہ پھر وہ دجّال کہاں گیا جس کی بابت کہتے ہیں کہ حرمین کے سوا اس کا دخل ساری جگہ ہوگا۔اس تناقض کا جواب ان کے پاس کیا ہے۔دجال تو کھوٹ کرنے والا ہے۔اس لیے اس کے معنے تاجر کے