ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 245 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 245

کہ اسلام کی ظاہری اور جسمانی صورت میں بھی ضعف آگیا ہے۔وہ قوت اور شوکت اسلامی سلطنت کی نہیں۔اور دینی طور پر بھی وہ بات جو مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ (البیّنۃ : ۶) میںسکھائی گئی تھی اس کا نمونہ نظر نہیں آتا ہے۔اندرونی طور پر اسلام کی حالت بہت ضعیف ہو گئی ہے اور بیرونی حملہ آور چاہتے ہیں کہ اسلام کو نابود کر دیں۔اُن کے نزدیک مسلمان کتوں اور خنزیروں سے بدتر ہیں۔ان کی غرض اور ارادے یہی ہیں کہ وہ اسلام کو تباہ کر دیں اور مسلمانوں کو ہلاک کریں۔اگر ایک سچے مسلمان کو ان ارادوں پر اطلاع ملے جو یہ لوگ اسلام کے خلاف رکھتے ہیں تو میں سچ کہتا ہوں کہ وہ ان کے تصوّر کے صدمہ ہی سے مَر جاوے۔اب خدا کی کتاب کے بغیر اور اس کی تائید اور روشن نشانوں کے سوا اُن کامقابلہ ممکن نہیں اور اسی غرض کے لیے خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے اس سلسلہ کو قائم کیا ہے۔عیسائیت کا فتنہ ہی دجّال کا فتنہ ہے دجّال بھی کتاب ہی کا پیرو ہونا چاہیے ورنہ دجل کیا کیا۔یہ تحریف کرتے ہیں۔پہلے حاشیہ پر لکھتے ہیں پھر ان مطالب کو متن میں داخل کرلیتے ہیں اور اس طرح پر آئے دن ان کی تحریف کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔دنیا کی کوئی زبان ایسی نہیں جس میں انہوں نے انجیل کا ترجمہ نہیں کیا۔اور اپنے باطل عقیدوں کی اشاعت نہیں کی۔انہوں نے اپنی تحریروں اور رسالوں کے ذریعہ بہت بڑی خباثت اور گند کو پھیلایا ہے۔ان کی نیتیں اسلام کے لیے ہرگز بخیر نہیں ہیں۔آدم سے لے کر اس وقت تک ایسے مغوی اور مُضِلّ پیدا نہیں ہوئے جیسی کہ یہ قوم ہے۔روپیہ، قوت، شوکت جو آج ان کو ملا ہے اور کسی کو نہیں۔میں پوچھتا ہوں کہ یہ قوم اسلام کے معدوم کرنے میں کس قدر کوشش کرتی ہے؟ اور کیا کیا طریق انہوں نے اختیار کئے ہیں؟ اور اپنے ارادوں اور کوششوں میں کہاں تک کامیابی اس نے حاصل کی ہے؟ اب اس سوال کا جواب سوچ کر کوئی ہمیں بتائے کہ جب یہ عظیم الشان فتنہ اور اسلام کے لیے دشمن ہے تو پھر اس کی پیشگوئی بھی تو ضرور ہونی چاہیے تھی۔پھر وہ کہاں ہے؟ قرآن شریف میں وَ لَا الضَّآلِّيْنَ تو کہا۔اگر دجّال کوئی الگ چیز تھی تو چاہیے تھا وَلَاالدَّجَّال