ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 244 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 244

مسٹر پگٹ مولانا مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے نے مسٹر پگٹ اور فرانس کے ایک جدید مدّعی مسیحیت کے متعلق ولایت کے اخبار فری تھنکر سے دو نوٹ پڑھ کر سنائے۔اور مفتی محمد صادق صاحب نے ڈاکٹر ڈوئی کے اخبار کے بعض پیراگراف سنائے۔ڈوئی کے ذکر پر پھر حضرت اقدس ؑ نے فرمایا کہ جان الیگزینڈر ڈوئی یہ وہ شخص ہے جس نے الیاس ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور اپنے آپ کو عہد نامہ کا رسول کہتا ہے۔ہم نے اس کو دعوت کی ہے کہ اگر تو یسوع مسیح کو خداسمجھتا ہے تو میں سچ کہتا ہوں کہ میں خدا کی طرف سے مسیح موعود ہو کر آیا ہوں۔پس تو اس قسم کی دعا کر کہ ہم دونوں میں سے جو کاذب ہے وہ پہلے ہلاک ہو۔یہ جوش زیادہ تر مجھے اس لیے آیا ہے کہ اس نے تمام مسلمانوں کے ہلاک ہونے کی پیشگوئی کی ہے۔یہ شخص اسلام کا بڑا دشمن ہے۔یہ زمانہ اس قسم کا آیا ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے ایسے وسائل پیدا کر دیئے ہیں کہ دنیا ایک شہر کا حکم رکھتی ہے۔اور وَ اِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ (التکویر : ۸) کی پیشگوئی پوری ہو گئی ہے۔اب سب مذاہب میدان میں نکل آئے ہیں۔اور یہ ضروری اَمر ہے کہ ان کامقابلہ ہو اور ان میں ایک ہی سچا ہوگا اور غالب آئے گا۔لِيُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّيْنِ كُلِّهٖ (الصّف : ۱۰)اس کی طرف اشارہ کرتا ہے۔یہ مقابلہ مذاہب کا شروع ہو گیا ہے اور اس مذہبی کُشتی کا سلسلہ نری زبان تک ہی نہیں رہا بلکہ قلم نے اس میں سے سب سے بڑھ کر حصہ لیا ہے۔لاکھوں مذہبی رسالے شائع ہو رہے ہیں۔اس وقت مختلف مذاہب خصوصاً نصاریٰ کے جو حملے اسلام پر ہو رہے ہیں جو شخص ان حالات سے واقفیت رکھتا ہے اور اسے ان پر سوچنے کاموقع ملا ہے تو وہ ان ضرورتوں کو دیکھ کر بے اختیار ہو کر اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ یہ وقت ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے اسلام کی طرف زیادہ توجہ کرے۔جو شخص اسلام پر ان حملوں کی رفتار کو دیکھتا ہے تو وہ اس ضرورت کو محسوس کرتا ہے لیکن جس کو کوئی خبر ہی نہیں ہے وہ ان نقصانوں کی بابت کیا کہہ سکتا ہے جو اسلام کو پہنچائے گئے ہیں۔مسلمانوں نے نادان دوست کے رنگ میں اور غیر مذاہب والوں خصوصاً عیسائیوں نے دشمنی کے لباس میں وہ تو یہی کہتا ہے کہ اسلام کا کیا بگڑا ہے؟ مگر اسے معلوم نہیں