ملفوظات (جلد 3) — Page 244
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۴۴ جلد سوم مولانا مولوی محمد علی صاحب ایم ۔ اے نے مسٹر یکٹ اور فرانس کے ایک جدید مدعی مسیحیت مسٹر یکٹ سے متعلق ولایت کے انبار فری تھنک سے دونوٹ پڑھ کرسنائے۔ اور شنت حمد صادق صاحب مفتی نے ڈاکٹر ڈوٹی کے اخبار کے بعض پیرا گراف سنائے۔ ڈوٹی کے ذکر پر پھر حضرت اقدس نے فرمایا کہ جان الیگزینڈر ڈوئی یہ وہ شخص ہے جس نے الیاس ہونے کا دعوی کیا ہے اور اپنے آپ کو عہد نامہ کا رسول کہتا ہے۔ ہم نے اس کو دعوت کی ہے کہ اگر تو یسوع مسیح کو خدا سمجھتا ہے تو میں سچ کہتا ہوں کہ میں خدا کی طرف سے مسیح موعود ہو کر آیا ہوں ۔ پس تو اس قسم کی دعا کر کہ ہم دونوں میں سے جو کا ذب ہے وہ پہلے ہلاک ہو۔ یہ جوش زیادہ تر مجھے اس لیے آیا ہے کہ اس نے تمام مسلمانوں کے ہلاک ہونے کی پیشگوئی کی ہے۔ یہ شخص اسلام کا بڑا دشمن ہے۔ یہ زمانہ اس قسم کا آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایسے وسائل پیدا کر دیئے ہیں کہ دنیا ایک شہر کا حکم رکھتی ہے۔ اور وَ إِذَا النُّفُوسُ زُوجَتُ (التکویر : (۸) کی پیشگوئی پوری ہو گئی ہے۔ اب سب مذاہب میدان میں نکل آئے ہیں۔ اور یہ ضروری امر ہے کہ ان کا مقابلہ ہو اور ان میں ایک ہی سچا ہوگا اور غالب آئے گا ۔ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ محله ( الصف : ۱۰) اس کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہ مقابلہ مذاہب کا شروع ہو گیا ہے اور اس مذہبی گشتی کا سلسلہ نری زبان تک ہی نہیں رہا بلکہ قلم نے اس میں سے سب سے بڑھ کر حصہ لیا ہے۔ لاکھوں مذہبی رسالے شائع ہو رہے ہیں۔ اس وقت مختلف مذاہب خصوصاً نصاری کے جو حملے اسلام پر ہو رہے ہیں جو شخص ان حالات سے واقفیت رکھتا ہے اور اسے ان پر سوچنے کا موقع ملا ہے تو وہ ان ضرورتوں کو دیکھ کر بے اختیار ہو کر اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ یہ وقت ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے اسلام کی طرف زیادہ توجہ کرے۔ جو شخص اسلام پر ان حملوں کی رفتار کودیکھتا ہے تو وہ اس ضرورت کو محسوس کرتا ہے لیکن جس کو کوئی خبر ہی نہیں ہے وہ ان نقصانوں کی بابت کیا کہہ سکتا ہے جو اسلام کو پہنچائے گئے ہیں ۔ مسلمانوں نے نادان دوست کے رنگ میں اور غیر مذاہب والوں خصوصاً عیسائیوں نے دشمنی کے لباس میں وہ تو یہی کہتا ہے کہ اسلام کا کیا بگڑا ہے؟ مگر اسے معلوم نہیں