ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 241 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 241

ساتھ انسان کو ایک ذوق ہوتا ہے۔اس لیے اپنی زبان میں نہایت خشوع اور خضوع کے ساتھ اپنے مطالب اور مقاصد کو بارگاہ ربُّ العزّۃ میں عرض کرنا چاہیے۔میں نے بارہا سمجھایا ہے کہ نما زکا تعہد کرو جس سے حضور اور ذوقی پیدا ہو۔فریضہ تو جماعت کے ساتھ پڑھ لیتے ہیں۔باقی نوافل اور سُنن کو جیسا چاہو طُول دو۔اور چاہیے کہ اس میں گریہ وبکا ہو تاکہ وہ حالت پیدا ہو جاوے جو نماز کا اصل مطلب ہے۔نماز ایسی شَے ہے کہ سیّئات کو دور کر دیتی ہے جیسے فرمایا اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّاٰتِ (ھود : ۱۱۵) نماز کل بدیوں کو دور کر دیتی ہے۔حسنات سے مُراد نما زہے۔مگر آج کل یہ حالت ہو رہی ہے کہ عام طور پر نمازی کو مکّار سمجھا جاتا ہے کیونکہ عام لوگ بھی جانتے ہیں کہ یہ لوگ جو نماز پڑھتے ہیں یہ اسی قسم کی ہے جس پر خدا نے واویلا کیا ہے کیونکہ اس کا کوئی نیک اثر اور نیک نتیجہ مترتّب نہیں ہوتا۔نرے الفاظ کی بحث مَیں پسند نہیں کرتا۔آخر مَر کر خدا تعالیٰ کے حضور جانا ہے۔دیکھو! ایک مریض جو طبیب کے پاس جاتا ہے اور اس کا نسخہ استعمال کرتا ہے۔اگر دس بیس دن تک اس سے کوئی فائدہ نہ ہو تو وہ سمجھتا ہے کہ تشخیص یا علاج میں کوئی غلطی ہے۔پھر یہ کیا اندھیر ہے کہ سالہا سال سے نمازیں پڑھتے ہیں اور اس کا کوئی اثر محسوس اور مشہود نہیں ہوتا۔میرا تو یہ مذہب ہے کہ اگر دس دن بھی نماز کو سنوار کر پڑھیں تو تنویر ِقلب ہو جاتی ہے۔مگر یہاں تو پچاس پچاس برس تک نما زپڑھنے والے دیکھے گئے ہیں کہ بدستور روبدنیا اور سِفلی زندگی میں نگونسار ہیں اور انہیں نہیں معلوم کہ وہ نمازوں میں کیا پڑھتے ہیں اور استغفار کیا چیز ہے؟ اس کے معنوں پر بھی انہیں اطلاع نہیں ہے۔طبیعتیں دو قسم کی ہیں۔ایک وہ جو عادت پسند ہوتی ہیں۔جیسے اگر ہندو کا کسی مسلمان کے ساتھ کپڑا بھی چُھو جاوے تو وہ اپنا کھانا پھینک دیتا ہے حالانکہ اس کھانے میں مسلمان کا کوئی اثر سرایت نہیں کر گیا۔زیادہ تر اس زمانہ میں لوگوں کا یہی حال ہو رہا ہے کہ عادت اور رسم کے پابند ہیں اور حقیقت سے واقف اور آشنا نہیں ہیں۔جو شخص دل میں یہ خیال کرے کہ یہ بدعت ہے کہ نماز کے پیچھے دعا نہیں مانگتے بلکہ نمازوں میں دعائیں کرتے ہیں یہ بدعت نہیں۔پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ادعیہ عربی میں سکھائی تھیں جو اُن لوگوں کی اپنی مادری زبان تھی اسی لیے ان کی ترقیات جلدی