ملفوظات (جلد 3) — Page 238
تائیدات کسی کو نہ دی جاویں کامیابی ہو نہیں سکتی؟ ضرورت انبیاء علیہم السلام کا یہی بڑا بھاری ثبوت ہے کیونکہ اگر بگڑے وقت اصلاح دنیا ہوسکتی تو ہر زمانہ میں فلاسفر اور دانش مند مدبّر ہوتے ہی رہے ہیں۔انبیاء علیہم السلام کے زمانہ میں بھی ایسے لوگ ہو گذرے ہیں۔اب بھی موجود ہیں۔لیکن وہ فلاسفر اور ریفار مر خدا تعالیٰ سے اس قدر دور جا پڑے ہیں کہ ان کے نزدیک شاید خدا تعالیٰ کا نام لینا بھی ایک گناہ اور غلطی قرار دیا گیا ہے۔پھر بتائو کہ یہ فلسفہ اور یہ اصلاح تمہیں کہاں تک لے جائے گی۔اس سے کسی بہتری کی امید رکھنا خطرناک غلطی ہے کیا تم نہیں دیکھتے کہ خدا تعالیٰ نے یہی سنّت رکھی ہے کہ اصلاح کے واسطے نبیوں کو مامور کر کے بھیجا ہے۔انبیاء علیہم السلام جب آتے ہیں تو بظاہر دنیا میں ایک فسادِ عظیم نظر آتا ہے۔بھائی بھائی سے باپ بیٹے سے جدا ہو جاتا ہے۔ہزاروں ہزار جانیں بھی تلف ہو جاتی ہیں۔حضرت نوح علیہ السلام کے وقت طوفان سے ان کے مخالفوں کو تباہ کر دیا گیا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت طاعون اور دوسرے کئی عذاب وارد ہوئے اور فرعون کے لشکر کو غرق کیا گیا۔غرض خوب یاد رکھو کہ قلوب کی اصلاح اسی کا کام ہے جس نے قلوب کو پیدا کیا ہے۔نرے کلمات اور چرب زبانیاں اصلاح نہیں کر سکتی ہیں بلکہ ان کلمات کے اندر ایک روح ہونی چاہیے۔پس جس شخص نے قرآن شریف کو پڑھا اور اس نے اتنا بھی نہیں سمجھا کہ ہدایت آسمان سے آتی ہے تو اس نے کیا سمجھا؟ اَلَمْ يَاْتِكُمْ نَذِيْرٌ کا جب سوال ہوگا تو پتہ لگے گا۔اصل بات یہی ہے کہ ع خدا را بخدا تواں شناخت اور یہ ذریعہ بغیر امام نہیں مل سکتا۔کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کے تازہ بتازہ نشانوں کامظہر اور اس کی تجلیّات کامورد ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ حدیث شریف میں آیا ہے مَنْ لَمْ یَعْرِفْ اِمَامَ زَمَانِہٖ فَقَدْ مَاتَ مِیْتَۃَالْـجَاھِلِیَّۃِ۔یعنی جس نے زمانہ کے امام کو شناخت نہیں کیا وہ جہالت کی موت مَر گیا۔۱