ملفوظات (جلد 3) — Page 237
کو سوں دور ہے جس کے لیے انسان پیدا کیا گیا ہے اور جس طرح دنیا کی اصلاح ہوا کرتی ہے۔وہ رنگ اس میں موجود نہیں ہے۔اصلاح کا طریق ہمیشہ وہی مفید اور نتیجہ خیز ثابت ہوا ہے۔جو اﷲ تعالیٰ کے اذن اور ایماء سے ہول۔اگر ہر شخص کی خیالی تجویزوں اور منصوبوں سے بگڑہوئی قوموں کی اصلاح ہوسکتی تو پھر دنیا میں انبیاء علیہم السلام کے وجود کی کچھ حاجت نہ رہتی جبتک کامل طور پر ایک مرض کی تشخیص نہ ہو اور پھر پورے وثوق کے ساتھ اس کا علاج معلوم نہ ہولے کامیابی علاج میں نہیں ہوسکتی۔اسلام کی جو حالت بازک ہو رہی ہے وہ ایسے ہی طبیبوں کی وجہ سے ہو رہی ہے جنہوں نے اس کی مرضکو تو تشخیص نہیں کیا اور جو علاج اپنے خیال میں گذرا اپنے مفاد کو مد نظر رکھ کر شروع کر دیا۔مگریقینا یاد رکھو کہ اس مرض اور علاج سے یہ لوگ محض ناواقف ہیں۔اس کو وہی شناخت کرتا ہے جس کو خد اتاعالیٰ نے اسی غرض کے لیے بھیجا ہے اور وہ میں ہوں۔اصلاح احوال کے لیے آسمانی تدابیر کی ضرورت اسلام کے اندر ایک خطرناک پھوڑا ہو گیا ہے اور یاک جذام باہر کی طرف سے ا۲سے لگ رہا ہے۔اندرونی پھوڑے کا باعث خود مسلمان ہوئے جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک تعلیمات اور اُسوہ حسنہ کو چھوڑ کر اپنی تجویز اور رائے کے موافق اس میں اصلاح اور ترمیم شروع کر دی۔وہ باتیں جو کبھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وہم وگمان میں بھی نہ آئی تھیں آج عبادت قرار دی گئے ہیں اور زہد و ریاضت کا بہت بڑا مدار انہیں پر رکھا گیا ہے۔ان باتوں کو دیکھ کر بیرونی دشمنو ںکو بھی موقع ملا اور وہ تیروتفنگ لے کر اسلام پر حملہ آور ہوئے اور اس کے پاک وجود کو چھلنی کر دیا اور اسے ایسی مکروہ ہیئت میں دشمنوں نے دکھانا شروع کر دیا کہ غیر تو غیر تھے ہی اپنوں کو بھی متنفر کر دیا۔ہر شخص نے اپنی طرز پر اس کی تصویر کو بھیانک بنانے کی فکر کی۔ایسی صورت میں زمینی حربہ اور ارضی تدابیر کام نہیں دے سکتی ہیں۔اس کے لیے اسمانی حربہ ارو آسمانی تدابیر کی حاجت ہے۔اس لیے جب تک آسمانی کشش اور آسمانی